براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 234

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۳۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کسی مومن پر نازل ہوتی ہے تو تمام بوجھ عبادات کا اس کے سر پر سے ساقط ہو جاتا ہے اور اس ۷۴) میں ایک ایسی قوت اور لذت آجاتی ہے جو وہ قوت تکلف سے نہیں بلکہ طبعی جوش سے یاد الہی اُس سے کراتی ہے اور عاشقانہ جوش اُس کو بخشتی ہے۔ پس ایسا مومن جبرائیل علیہ السلام کی طرح ہر وقت آستانہ الہی کے آگے حاضر رہتا ہے اور حضرت عزت کی دائمی ہمسائیگی اس کے نصیب ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ اس درجہ کے بارے میں فرماتا ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ یعنی مومن کامل وہ لوگ ہیں کہ ایسا دائمی حضور اُن کو میسر آتا ہے کہ ہمیشہ وہ اپنی نماز کے آپ نگہبان رہتے ہیں۔ یہ اس حالت کی طرف اشارہ ہے کہ اس درجہ کا مومن اپنی روحانی بقا کے لئے نماز کو ایک ضروری چیز سمجھتا ہے اور اس کو اپنی غذا قرار دیتا ہے جس کے بغیر وہ جی ہی نہیں سکتا۔ یہ درجہ بغیر اس رُوح کے حاصل نہیں ہوسکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مومن پر نازل ہوتی ہے کیونکہ جب کہ مومن خدا تعالیٰ کے لئے اپنی جان کو ترک کر دیتا ہے تو ایک دوسری جان پانے کا مستحق ہوتا ہے۔ اس تمام تقریر سے ثابت ہے کہ یہ مراتب ستہ عقل سلیم کے نزدیک اُس مومن کی راہ میں پڑے ہیں جو اپنے وجو د روحانی کو کمال تک پہنچانا چاہتا ہے اور ہر ایک انسان تھوڑے سے غور کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ضرور مومن پر اس کے سلوک کے وقت چھ حالتیں آتی ہیں۔ وجہ یہ کہ جب تک انسان خدا تعالیٰ سے کامل تعلق نہیں پکڑتا تب تک اُس کا نفس ناقص پانچ خراب حالتوں سے پیار کرتا ہے اور ہر ایک حالت کا پیار دُور کرنے کے لئے ایک ایسے سبب کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اس پیار پر غالب آجائے ۔ اور نیا پیار پہلے پیار کا علاقہ تو ڑ دے۔ چنانچہ پہلی حالت جس سے وہ پیار کرتا ہے یہ ہے کہ وہ ایک غفلت میں پڑا ہوتا ہے اور اس کو بالکل خدا تعالیٰ سے بعد اور دُوری ہوتی ہے اور نفس ایک کفر کے رنگ میں ہوتا ہے اور غفلت کے پردے تکبر اور لا پروائی اور سنگدلی کی طرف اس کو کھینچتے ہیں اور خشوع اور خضوع اور تواضع اور فروتنی اور انکسار کا نام ونشان اس میں نہیں ہوتا اور اسی اپنی حالت سے وہ محبت کرتا ہے اور ل المؤمنون: ١٠