براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 233 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 233

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۳۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم یہ قربانی ادا کر دے اور دوسرے یہ کہ جو خدا تعالیٰ کے ساتھ ایمان کے وقت اس کا عہد تھا اور جو عہد اور امانتیں مخلوق کی اس کی گردن پر ہیں اُن سب کو ایسے طور سے تقویٰ کی رعایت سے بجا لا دے کہ وہ بھی ایک سچی قربانی ہو جاوے کیونکہ دقائق تقومی کو انتہا تک پہنچانا یہ بھی ایک قسم کی موت ہے۔ اور لفظ افلح کا جو اس آیت سے بھی تعلق رکھتا ہے اس کے اس جگہ یہ معنے ہیں (۷۳ کہ جب اس درجہ کا مومن خدا تعالیٰ کی راہ میں بذل نفس کرتا ہے اور تمام دقائق تقومی بجا لاتا ہے۔ تب حضرت احدیت سے انوار الہیہ اُس کے وجود پر محیط ہو کر روحانی خوبصورتی اُس کو بخشتے ہیں جیسے کہ گوشت ہڈیوں پر چڑھ کر ان کو خوبصورت بنا دیتا ہے اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں ان دونوں حالتوں کا نام خدا تعالیٰ نے لباس ہی رکھا ہے ۔ تقویٰ کا نام بھی لباس ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لباس التقوی اور جو گوشت ہڈیوں پر چڑھتا ہے وہ بھی لباس ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَكَسَوْنَا الْعِظمَ لَحْماً کیونکہ حَسُوَت جس سے كَسَونَا کا لفظ نکلا ہے لباس کو ہی کہتے ہیں۔ اب یادر ہے کہ منتہا سلوک کا پنجم درجہ ہے۔ اور جب پنجم درجہ کی حالت اپنے کمال کو پہنچ جاتی ہے تو اس کے بعد چھٹا درجہ ہے جو محض ایک موہبت کے طور پر ہے اور جو بغیر کسب اور کوشش کے مومن کو عطا ہوتا ہے اور کسب کا اس میں ذرہ دخل نہیں ۔ اور وہ یہ ہے کہ جیسے مومن خدا کی راہ میں اپنی روح کھوتا ہے ایک روح اس کو عطا کی جاتی ہے کیونکہ ابتدا سے یہ وعدہ ہے کہ جو کوئی خدا تعالیٰ کی راہ میں کچھ کھوئے گا وہ اُسے پائے گا۔ اس لئے روح کو کھونے والے روح کو پاتے ہیں ۔ پس چونکہ مومن اپنی محبت ذاتیہ سے خدا کی راہ میں اپنی جان وقف کرتا ہے اس لئے خدا کی محبت ذاتیہ کی روح کو پاتا ہے جس کے ساتھ روح القدس شامل ہوتا ہے۔ خدا کی محبت ذاتیہ ایک روح ہے اور روح کا کام مومن کے اندر کرتی ہے اس لئے وہ خود رُوح ہے اور روح القدس اس سے جدا نہیں کیونکہ اس محبت اور روح القدس میں کبھی انفکاک ہو ہی نہیں سکتا۔ اسی وجہ سے ہم نے اکثر جگہ صرف محبت ذاتیہ الہیہ کا ذکر کیا ہے اور روح القدس کا نام نہیں لیا کیونکہ ان کا باہم تلازم ہے اور جب رُوح الاعراف: ۲۷ المؤمنون : ۱۵