براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 228
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۲۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم قبول بھی نہ ہوتا ہم اس کے اعتقاد اور ارادت میں فرق نہیں آئے گا۔ اور دعا کرانا آزمائش کے طور پر نہ ہو بلکہ بچے اعتقاد کے طور پر ہو اور نہایت نیاز مندی سے اس کے دروازے پر گرے اور جہاں تک اس کے لئے ممکن ہے مال سے خدمت سے ہر ایک طور کی اطاعت سے ایسا قرب پیدا کرے کہ اس کے دل کے اندر داخل ہو جائے اور با ایں ہمہ نہایت درجہ پر نیک ظن ہو اور اُس کو نہایت درجہ کا متقی سمجھے اور اس کی مقدس شان کے برخلاف ایک خیال بھی دل میں لانا کفر خیال کرے اور اس قسم کی طرح طرح کی جاں نثاری دکھلا کر بیچے اعتقاد کو اُس پر ثابت اور روشن کر دے اور اس کی مثل دنیا میں کسی کو بھی نہ سمجھے اور جان سے مال سے آبرو سے اُس پر فدا ہو جائے۔ اور کوئی کلمہ کسر شان کا کسی پہلو سے اس کی نسبت زبان پر نہ لائے اور نہ دل میں ۔ اور اس بات کو اس کی نظر میں بپایہ ثبوت پہنچا دے کہ در حقیقت وہ ایسا ہی معتقد اور مرید ہے اور با ایں ہمہ صبر سے انتظار کرے اور اگر پچاس دفعہ بھی اپنے کام میں نامرادر ہے پھر بھی اعتقاد اور یقین میں سُست نہ ہو۔ کیونکہ یہ قوم سخت نازک دل ہوتی ہے اور اُن کی فراست چہرہ کو دیکھ کر پہچان سکتی ہے کہ یہ شخص کس درجہ کا اخلاص رکھتا ہے اور یہ قوم با وجود نرم دل ہونے کے نہایت بے نیاز ہوتی ہے۔ اُن کے دل خدا نے ایسے بے نیاز پیدا کئے ہیں کہ متکبر اور خود غرض اور منافق طبع انسان کی کچھ پروا نہیں کرتے ۔ اس قوم سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اس قدر غلامانہ اطاعت اُن کی اختیار کرتے ہیں کہ گویا مر ہی جاتے ہیں۔ مگر وہ شخص جو قدم قدم پر بدظنی کرتا ہے اور دل میں کوئی اعتراض رکھتا ہے اور پوری محبت اور ارادت نہیں رکھتا وہ بجائے فائدہ کے ہلاک ہوتا ہے۔ اب ہم اس تقریر کے بعد کہتے ہیں کہ یہ جو اللہ تعالیٰ نے مومن کے وجود روحانی کے مراتب سته بیان کر کے ان کے مقابل پر وجود جسمانی کے مراتب ستہ دکھلائے ہیں یہ ایک (۲۹) علمی معجزہ ہے اور جس قدر کتا ہیں دنیا میں کتب سماوی کہلاتی ہیں یا جن حکیموں نے نفس اور الہیات کے بارے میں تحریریں کی ہیں اور یا جن لوگوں نے صوفیوں کی طرز پر معارف