براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 229 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 229

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۲۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کی باتیں لکھی ہیں کسی کا ذہن ان میں سے اس بات کی طرف سبقت نہیں لے گیا کہ یہ مقابلہ جسمانی اور روحانی وجود کا دکھلاتا۔ اگر کوئی شخص میرے اس دعوے سے منکر ہو اور اس کا گمان ہو کہ یہ مقابلہ روحانی اور جسمانی کسی اور نے بھی دکھلایا ہے تو اس پر واجب ہے کہ اس علمی معجزہ کی نظیر کسی اور کتاب میں سے پیش کر کے دکھلاوے۔ اور میں نے تو توریت اور انجیل اور ہندوؤں کے وید کو بھی دیکھا ہے ۔ مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس قسم کا علمی معجزہ میں نے بجز قرآن شریف کے کسی کتاب میں نہ پایا۔ اور صرف اسی معجزہ پر حصر نہیں بلکہ تمام قرآن شریف ایسے ہی علمی مجزات سے پُر ہے جن پر ایک عقل مند نظر ڈال کر سمجھ سکتا ہے کہ یہ اُسی خدائے قادر مطلق کا کلام ہے جس کی قدرتیں زمین و آسمان کی مصنوعات میں ظاہر ہیں۔ وہی خدا جو اپنی باتوں اور کاموں میں بے مثل و مانند ہے پھر جب ہم ایک طرف ایسے ایسے معجزات قرآن شریف میں پاتے ہیں اور دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمیت کو دیکھتے ہیں اور اس بات کو اپنے تصور میں لاتے ہیں کہ آپ نے ایک حرف بھی کسی اُستاد سے نہیں پڑھا تھا اور نہ آپ نے طبعی اور فلسفہ سے کچھ حاصل کیا تھا بلکہ آپ ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئے تھے کہ جو سب کی سب اُمی اور نا خواندہ تھی اور ایک وحشیانہ زندگی رکھتی تھی اور با ایں ہمہ آپ نے والدین کی تربیت کا زمانہ بھی نہیں پایا تھا۔ تو ان سب باتوں کو مجموعی نظر کے ساتھ دیکھنے سے قرآن شریف کے منجانب اللہ ہونے پر ایک ایسی چمکتی ہوئی بصیرت ہمیں ملتی ہے اور اس کا علمی معجزہ ہونا ایسے یقین کے ساتھ ہمارے دل میں بھر جاتا ہے کہ گویا ہم اس کو دیکھ کر خدا تعالیٰ کو دیکھ لیتے ہیں۔ غرض جب کہ بدیہی طور پر ثابت ہے کہ سورۃ المؤمنون کی یہ تمام آیات جو ابتدائے سورۃ سے لے کر آیت فَتَبرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِينَ تک میں علمی معجزہ ہیں ۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ آیت فَتَبرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ على مجزه کی ایک جزو ہے اور بباعث معجزہ کے جزو ہونے کے معجزہ میں داخل ہے اور یہی ثابت کرنا تھا۔ اور یادر ہے کہ یہ علمی معجزہ مذکورہ بالا ایک ایسی صاف اور کھلی کھلی اور روشن اور بدیہی ۷۰) ل المؤمنون : ۱۵