براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 216
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۱۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم تپایا جائے یہاں تک کہ سرخ ہو جائے اور آگ کے رنگ پر ہو جائے۔ اس مومن سے الوہیت کے آثار اور افعال ظاہر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ لوہا بھی اس درجہ پر آگ کے آثار اور افعال ظاہر کرتا ہے مگر یہ نہیں کہ وہ مومن خدا ہو گیا ہے بلکہ محبت الہیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے جو اپنے رنگ میں ظاہر وجود کو لے آتی ہے اور باطن میں عبودیت اور اس کا ضعف موجود ہوتا ہے۔ اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے۔ اور اس کی ٹھنڈی ہوا بھی خدا ہی ہوتا ہے جس سے اس کے دل کو راحت پہنچتی ہے۔ اور اس مقام پر استعارہ کے رنگ میں یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ خدا اس مرتبہ کے مومن کے اندر داخل ہوتا اور اس کے رگ وریشہ میں سرایت کرتا اور اس کے دل کو اپنا تخت گاہ بنالیتا ہے۔ تب وہ اپنی روح سے نہیں بلکہ خدا کی روح سے دیکھتا اور (۵۸) خدا کی روح سے سنتا اور خدا کی روح سے بولتا اور خدا کی روح سے چلتا اور خدا کی روح سے دشمنوں پر حملہ کرتا ہے کیونکہ وہ اس مرتبہ پر نیستی اور استہلاک کے مقام میں ہوتا ہے اور خدا کی روح اس پر اپنی محبت ذاتیہ کے ساتھ تجلی فرما کر حیات ثانی اس کو بخشتی ہے ۔ پس اس وقت روحانی طور پر اس پر یہ آیت صادق آتی ہے ۔ ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخَلِقِينَ یہ تو وجود روحانی کا مرتبہ ششم ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اور اس کے مقابل پر جسمانی پیدائش کا مرتبہ ششم ہے اور اس جسمانی مرتبہ کے لئے بھی وہی آیت ہے جو روحانی مرتبہ کے لئے اوپر ذکر ہو چکی ہے یعنی ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَ ۔ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب ہم ایک پیدائش کو طیار کر چکے تو بعد اس کے ہم نے ایک اور پیدائش سے انسان کو پیدا کیا۔ اور کے لفظ سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ وہ ایسی فوق الفہم پیدائش ہے جس کا سمجھنا انسان کی عقل سے بالا تر ہے اور اُس کے فہم سے بہت دور یعنی روح جو قالب کی ل المؤمنون : ۱۵