براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 217
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۱۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم طیاری کے بعد جسم میں ڈالی جاتی ہے وہ ہم نے انسان میں روحانی اور جسمانی دونوں طور پر ڈال دی جو مجہول الکنہ ہے اور جس کی نسبت تمام فلسفی اور اس مادی دنیا کے تمام مقلد حیران ہیں کہ وہ کیا چیز ہے۔ اور جب کہ حقیقت تک اُن کو راہ نہ ملی تو اپنی انکل سے ہر ایک نے تسکیں لگائیں۔ کسی نے روح کے وجود سے ہی انکار کیا۔ اور کسی نے اس کو قدیم اور غیر مخلوق سمجھا۔ پس اللہ تعالی اس جگہ فرماتا ہے کہ روح بھی خدا کی پیدائش ہے مگر دنیا کے فہم سے بالا تر ہے اور جیسا کہ اس دنیا کے فلاسفر اس روح سے بے خبر ہیں جو وجود جسمانی کے چھٹے مرتبہ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے جسم پر فائض ہوتی ہے ویسا ہی وہ لوگ اس روح سے بھی بے علم رہے کہ جو وجود روحانی کے چھٹے مرتبہ پر مومن صادق کو خدا تعالیٰ سے ملتی ہے اور اس بارے میں بھی مختلف را ہیں اختیار کیں۔ بہتوں نے ایسے لوگوں کی پوجا شروع کر دی جن کو وہ روح بھی دی گئی تھی اور ان کو قدیم اور غیر مخلوق اور خدا سمجھ لیا اور بہتوں نے اس سے انکار کر دیا کہ اس مرتبہ کے لوگ بھی ہوتے ہیں اور ایسی روح بھی انسان کو ملتی ہے۔ لیکن اس بات کو بہت جلد ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جب کہ انسان اشرف المخلوقات ہے اور (۵۹) خدانے زمین کے تمام پرند و چرند پر اس کو بزرگی دے کر اور سب پر حکومت بخش کر اور عقل و فہم عنایت فرما کر اور اپنی معرفت کی ایک پیاس لگا کر اپنے ان تمام افعال سے جتلا دیا ہے کہ انسان خدا کی محبت اور عشق کے لئے پیدا کیا گیا ہے تو پھر اس سے کیوں انکار کیا جائے کہ انسان محبت ذاتیہ کے مقام تک پہنچ کر اس درجہ تک پہنچ جائے کہ اس کی محبت پر خدا کی محبت ایک روح کی طرح وارد ہو کر تمام کمزوریاں اس کی دُور کر دے۔ اور جیسا کہ اللہ تعالٰی نے وجود روحانی کے ششم مرتبہ کے بارے میں فرمایا ہے ۔ وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوتِهِمْ يُحَافِظُونَ ۔ ایسا ہی دائمی حضور اور سوز و گداز اور عبودیت انسان سے سرزد ہو اور اس طرح پر وہ اپنے وجود کی علت غائی کو پورا کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ا یعنی میں نے پرستش کے لئے ہی ل المؤمنون : ١٠ الذريت: ۵۷