براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 215

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۱۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جو فلق صبح کی طرح ظہور میں آجاتے ہیں اور بباعث علاقہ صافیہ محبت جو حضرت عزت سے ہوتا ہے مبشر خوابوں سے بہت سا حصہ اُن کو ملتا ہے۔ یہی وہ مرتبہ ہے جس مرتبہ پر مومن کو محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی محبت اس کے لئے روٹی اور پانی کا کام دیتی ہے۔ یہ نئی پیدائش اس وقت ہوتی ہے جب پہلے روحانی قالب تمام تیار ہو چکتا ہے۔ اور پھر وہ روح جو محبت ذاتیہ الہیہ ۵۷ کا ایک شعلہ ہے ایسے مومن کے دل پر آپڑتا ہے اور یک دفعہ طاقت بالا نشیمن بشریت سے بلند تر اُس کو لے جاتی ہے۔ اور یہ مرتبہ وہ ہے جس کو روحانی طور پر خلق آخر کہتے ہیں۔ اس مرتبہ پر خدا تعالیٰ اپنی ذاتی محبت کا ایک افروختہ شعلہ جس کو دوسرے لفظوں میں روح کہتے ہیں مومن کے دل پر نازل کرتا ہے اور اس سے تمام تاریکیوں اور آلائشوں اور کمزوریوں کو دور کر دیتا ہے۔ اور اس روح کے پھونکنے کے ساتھ ہی وہ حسن جواد فی مرتبہ پر تھا کمال کو پہنچ جاتا ہے اور ایک روحانی آب و تاب پیدا ہو جاتی ہے اور گندی زندگی کی کبودگی بکلی دور ہو جاتی ہے اور مومن اپنے اندر محسوس کر لیتا ہے کہ ایک نئی روح اس کے اندر داخل ہو گئی ہے جو پہلے نہیں تھی۔ اُس روح کے ملنے سے ایک عجیب سکینت اور اطمینان مومن کو حاصل ہو جاتی ہے اور محبت ذاتیہ ایک فوارہ کی طرح جوش مارتی اور عبودیت کے پودہ کی آبپاشی کرتی ہے اور وہ آگ جو پہلے ایک معمولی گرمی کی حد تک تھی اس درجہ پر وہ تمام و کمال افروختہ ہو جاتی ہے اور انسانی وجود کے تمام خس و خاشاک کو جلا کر الوہیت کا قبضہ اس پر کر دیتی ہے۔ اور وہ آگ تمام اعضاء پر احاطہ کر لیتی ہے۔ تب اُس لوہے کی مانند جو نہایت درجہ آگ میں کرتے ہیں تو اس وقت عام لوگوں کا کیا حال ہوتا جب کہ ان کے پاس کوئی بھی نمونہ نہ ہوتا۔ اور یہ خیال کہ ہمیں بھی بعض اوقات کچی خوا میں آجاتی ہیں یا کوئی بچے الہام ہو جاتے ہیں اس سے رسولوں اور نبیوں کی عظمت میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ ایسے لوگوں کے رویا اور الہام شکوک اور شبہات کے دُخان سے خالی نہیں ہوتے اور با ایں ہمہ مقدار میں بھی کم ہوتے ہیں۔ پس جیسا کہ ایک مفلس ایک پیسہ کے ساتھ ایک بادشاہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہیں کہہ سکتا کہ میرے پاس بھی مال ہے اور اس کے پاس بھی ایسا ہی یہ مقابلہ بھی بیچ اور سراسر حماقت ہے۔ منہ