براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 211

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۱۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم نہایت مکر وہ نکل آتی ہے مگر اس درجہ پنجم میں خواہ درجہ پنجم و جود جسمانی کا ہے اور خواہ درجہ پنجم وجود روحانی کا ہے کامل خوبصورتی پیدا نہیں ہوتی ۔ کیونکہ ابھی روح کا اُس پر فیضان نہیں ہوا۔ یہ امر مشهود ومحسوس ہے کہ ایک انسان کو کیسا ہی خوبصورت ہو جب وہ مرجاتا ہے اور اس کی روح اس کے اندر سے نکل جاتی ہے تو ساتھ ہی اس حسن میں بھی فرق آجاتا ہے جو اُس کو قدرت قادر نے عطا کیا تھا۔ حالانکہ تمام اعضاء اور تمام نقوش موجود ہوتے ہیں مگر صرف ایک روح کے نکلنے سے انسانی قالب کا گھر ایک ویران اور سنسان سا معلوم ہوتا ہے اور آب و تاب کا نشان نہیں رہتا۔ یہی حالت روحانی وجود کے پانچویں درجہ کی ہے کیونکہ یہ امر بھی مشہود و محسوس ہے کہ جب تک کسی مومن میں خدا تعالیٰ کی طرف سے اُس روح کا فیضان نہ ہو جو وجود روحانی کے چھٹے درجہ پر ملتی ہے اور ایک فوق العادت طاقت اور زندگی بخشتی ہے تب تک خدا کی امانتوں کے ادا کرنے اور اُن کے ٹھیک طور پر استعمال کرنے اور صدق کے ساتھ اس کا ایمانی عہد پورا کرنے اور ایسا ہی مخلوق کے حقوق اور عہدوں کے ادا کرنے میں وہ آب و تاب تقویٰ پیدا نہیں ہوتی جس کا حسن اور خوبی دالوں کو اپنی طرف کھینچے اور جس کی ہر ایک ادا فوق العادت اور اعجاز کے رنگ میں معلوم ہو بلکہ قبل اس روح کے تقویٰ کے ساتھ تکلف اور بناوٹ کی ایک ملونی رہتی ہے کیونکہ اس میں وہ رُوح نہیں ہوتی جو حسن روحانی کی آب و تاب دکھلا سکے اور یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ ایسے مومن کا قدم جو ابھی اس روح سے خالی ہے پورے طور پر نیکی پر قائم نہیں رہ سکتا بلکہ جیسا کہ ایک ہوا کے دھکا سے مُردہ کا کوئی عضو حرکت کر سکتا ہے اور جب ہوا دور ہو جائے تو پھر مُردہ اپنی حالت پر آجاتا ہے ایسا ہی وجود روحانی کے پنجم درجہ کی حالت ہوتی ہے کیونکہ صرف عارضی طور پر خدا تعالیٰ کی نیم رحمت اس کو نیک کاموں کی طرف جنبش دیتی رہتی ہے اور اس طرح تقویٰ کے کام اُس سے صادر ہوتے ہیں لیکن ابھی نیکی کی روح اس کے اندر آباد نہیں ہوتی اس لئے وہ حسن معاملہ اس میں پیدا نہیں ہوتا جو اس روح کے داخل ہونے کے بعد اپنا جلوہ دکھلاتا ہے۔ (۵۴)