براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 201

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۰۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کبھی کبھی دل پر وارد ہونا یا نماز میں ذوق اور سرور حاصل ہونا یہ اور چیز ہے اور طہارت نفس اور چیز ۔ اور گوکسی سالک کا خشوع اور عجز و نیاز اور سوز و گداز بدعت اور شرک کی آمیزش سے پاک بھی ہوتا ہم ایسا آدمی جس کا وجود روحانی ابھی مرتبہ دوم تک نہیں پہنچا ابھی صرف قبلہ روحانی کا قصد کر رہا ہے اور راہ میں سرگردان ہے اور ہنوز اُس کی راہ میں طرح طرح کے دشت و بیابان اور خارستان اور کوہستان اور بحر عظیم پر طوفان اور درندگان دشمن ایمان و دشمن جان قدم قدم پر بیٹھے ہیں تاوقتیکہ وجو د روحانی کے دوسرے مرتبہ تک نہ پہنچ جائے۔ یادر ہے کہ خشوع اور بجز و نیاز کی حالت کو یہ بات ہرگز لازم نہیں ہے کہ خدا سے سچا تعلق ہو جائے بلکہ بسا اوقات شریر لوگوں کو بھی کوئی نمونہ قہرالہی دیکھ کر خشوع پیدا ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے ان کو کچھ بھی تعلق نہیں ہوتا اور نہ لغو کاموں سے ابھی رہائی ہوتی ہے ۔ مثلاً وہ زلزلہ جو چاڑا پریل ۱۹۰۵ء کو آیا تھا اس کے آنے کے وقت لاکھوں دلوں میں ایسا خشوع اور سوز و گداز پیدا ہوا تھا کہ بجز خدا کے نام لینے اور رونے کے اور کوئی کام نہ تھا یہاں تک کہ دہریوں کو بھی اپنا د ہر یہ پن بھول گیا تھا۔ اور پھر جب وہ وقت جاتا رہا اور زمین ٹھہر گئی تو حالت خشوع نابود ہوگئی یہاں تک کہ میں نے سنا ہے کہ بعض دہریوں نے جو اس وقت خدا کے قائل ہو گئے تھے بڑی بے حیائی اور دلیری سے کہا کہ ہمیں غلطی لگ گئی تھی کہ ہم زلزلہ کے رعب میں آگئے ورنہ خدا نہیں ہے۔ غرض جیسا کہ ہم بار بار لکھ چکے ہیں خشوع کی حالت کے ساتھ بہت گند جمع ہو سکتے ہیں البتہ وہ تمام آئندہ کمالات کے لئے تخم کی طرح ہے مگر اسی حالت کو کمال سمجھنا اپنے نفس کو دھوکہ دینا ہے۔ بلکہ بعد اس کے ایک اور مرتبہ ہے جس کی تلاش مومن کو کرنی چاہیے اور کبھی آرام نہیں لینا چاہیے اور ست نہیں ہونا چاہیے جب تک وہ رتبہ حاصل نہ ہو جائے اور وہ وہی مرتبہ ہے جس کو کلام الہی نے ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ یعنی مومن صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو نماز میں خشوع اختیار کرتے اور سوز وگداز ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان سے ا المؤمنون : ۴