براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 199 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 199

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۹۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم رحم سے تعلق ہو جاتا ہے اور جیسا کہ قبل ظہور دوسرے مرتبہ وجو د روحانی کے لغو تعلقات اور غوشغلوں سے رہائی پانا غیر ممکن ہوتا ہے اور صرف وجود روحانی کا پہلا مرتبہ یعنی خشوع اور عجز ونیاز کی حالت اکثر برباد بھی چلی جاتی ہے اور انجام بد ہوتا ہے۔ ایسا ہی نطفہ بھی جو جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے علقہ بننے کی حالت سے پہلے بسا اوقات صدہا مرتبہ لغو طور پر ضائع جاتا ہے پھر جب ارادہ الہی اس بات کے متعلق ہوتا ہے کہ لغو طور پر ضائع ہونے سے اس کو بچائے تو اُس کے امر اور اذن سے وہی نطفہ رحم میں علقہ بن جاتا ہے تب وہ وجود جسمانی کا دوسرا مرتبہ کہلاتا ہے غرض دوسرا مرتبہ روحانی وجود کا جو تمام لغو باتوں اور لغو کاموں سے پر ہیز کرنا اور لغو باتوں اور لغو تعلقات اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہونا ہے یہ مرتبہ بھی اسی وقت میسر آتا ہے کہ جب خدائے رحیم سے انسان کا تعلق پیدا ہو جائے کیونکہ یہ تعلق میں ہی طاقت اور قوت ہے کہ دوسرے تعلق کو توڑتا ہے اور ضائع ہونے سے بچاتا ہے اور گوانسان کو (۲۳) اپنی نماز میں حالت خشوع میسر آجائے جو روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے پھر بھی وہ خشوع لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو جوشوں سے روک نہیں سکتا۔ جب تک کہ خدا سے وہ تعلق نہ ہو جو روحانی وجود کے دوسرے مرتبہ پر ہوتا ہے۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ گو ایک انسان اپنی بیوی سے ہر روز کئی دفعہ صحبت کرے تا ہم وہ نطفہ ضائع ہونے سے رُک نہیں سکتا جب تک کہ رحم سے اس کا تعلق پیدا نہ ہو جائے ۔ پس خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ اس کے یہی معنے ہیں که مومن وہی ہیں جو لغو تعلقات سے اپنے تئیں الگ کرتے ہیں اور لغو تعلقات سے اپنے تئیں الگ کرنا خدا تعالیٰ کے تعلق کا موجب ہے۔ گویا لغو باتوں سے دل کو لغو تعلقات سے الگ ہونا خدا تعالیٰ کے تعلق کا اس لئے موجب ہے کہ خدا تعالیٰ نے انہیں آیات میں افلح کے لفظ کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص خدا کی طلب میں کوئی کام