براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 183
روحانی خزائن جلد ۲۱ حضورش پریشان شد و کارزشت در آئینه گر روئے خود دیدے ۱۸۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم بر طاق مسجد نوشت سفر کرد و بیدانشی پرده ندریدمے اب میں محمد اکرام اللہ خان صاحب شاہجہان پوری کے ان اعتراضات کا جواب لکھ چکا جو روزانہ پیسہ اخبار مورخہ ۲۲ مئی ۱۹۰۵ء کے صفحہ ۵ میں چھپے ہیں۔ لیکن بعد اس کے میرے دوست مولوی عبد الکریم صاحب کے نام ایک صاحب نے جنہوں نے اپنا نام اپنے خط میں ظاہر نہیں کیا ایک خط بھیجا ہے اور اس میں خدا تعالیٰ کا واسطہ ڈال کر چند اعتراضات کا جواب مانگا ہے جو انہیں پیشگوئیوں کے متعلق ہیں۔ اگر چہ ان اعتراضات کا جواب کافی طور پر اسی حصہ براہین میں آچکا ہے لیکن چونکہ خدا تعالیٰ کا واسطہ دے کر معترض صاحب کی درخواست ہے اس لئے ہم تکرار کلام کی کچھ پروا نہ رکھ کر محض اللہ صاحب موصوف کے اعتراضات کا جواب برعایت اختصار ذیل میں دیتے ہیں۔ قوله عفت الديار محلها و مقامها کا فقرہ جسے جناب مقدس مرزا صاحب اپنا الہام و وحی فرما رہے ہیں ایک پرانے شاعر کا مصرع ہے ۔ کیا کسی نبی کو کبھی ایسی وحی ہوئی جس کے الفاظ حرفا حرفا وہی ہوں جو اس نبی سے پہلے کسی آدمی کی زبان سے نکل چکے ہوں۔ اگر آپ یہ ثابت کر سکیں تو دوسرا اعتراض یہ ہوگا کہ اس صورت میں خدا کے قول اور بندہ کے قول میں فرق کیا ہوگا۔ اقول ۔ اس بارہ میں ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ اور نبیوں کو تلاش کرنا کچھ ضروری نہیں خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض ایسے فقرے وحی الہی کے نازل ہو چکے ہیں جو پہلے وہ کسی آدمی کے منہ سے نکلے تھے۔ جیسا کہ یہ فقرہ وحی فرقانی یعنی فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِينَ ۔یہ فقرہ پہلے (۲۹) عبد اللہ بن ابی سرح کی زبان سے نکلا تھا۔ اور وہی فقرہ وحی قرآنی میں نازل ہوا۔ دیکھو تفسیر کبیر الجزء السادس صفحہ ۲۷۶ مطبوعہ مصر۔ اصل عبارت یہ ہے۔ روی الكلبي عن ابن عباس رضي الله عنهما۔ ل المؤمنون : ۱۵