براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 182 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 182

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۸۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اقول ۔اے متعصب نادان! تجھے کب اتفاق ہوا ہے کہ تو میری پیشگوئیوں کو غور سے دیکھتا اور اُن سب پر اطلاع پاتا۔ اور تجھے کب اتفاق ہوا کہ میری صحبت میں رہتا اور میرے نشانوں کو بچشم خود دیکھتا۔ میں تجھے کس سے مشابہت دوں۔ تو اُس اندھے سے مشابہ ہے جو سورج کے وجود سے انکار کرتا ہے اور اپنی نابینائی کی طرف نہیں دیکھتا۔ ہر ایک واقف حال سمجھ سکتا ہے کہ کیا میری پیشگوئیوں کا حال ابتر ہے یا تیرے ایمان کا ہی حال ابتر ہے ۔ عقلمندوں کے لئے تیرے اعتراضات کا یہی نمونہ کافی ہے کہ جو بات تمام انبیاء کے نزدیک مسلّم ہے اور تمام فرقہ ہائے اسلام کے نزدیک مسلّم ہے وہی بات تیرے نزدیک جائے اعتراض ہے۔ ہائے افسوس کیا یہی لوگ اسلام کے لیڈر بنا چاہتے ہیں جن کو خدا کی تعلیم اور اسلام کے عقیدہ کی بھی خبر نہیں إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اے ظالم معترض کیا اسی سرمایہ پر قلم اٹھایا تھا ؟ گو تعصب کا جوش تھا مگر اپنی جہالت کو دکھلانا کیا ضرور تھا۔ ہر ایک بات سراسر جھوٹ ہر ایک شبہ محض شیطانی وسوسہ۔ اس علم اور واقفیت کے ساتھ تیرے دل میں کیوں گدگدی اُٹھی کہ خدا تعالیٰ کی پاک وحی پر اعتراض کرے اگر تم خاموش رہتے تو بہتر تھا۔ ناحق گناہ خریدا اور زبان کے ذریعہ سے اپنی پوشیدہ نادانی پر سب کو مطلع کر دیا اور پبلک میں اپنی رُسوائی کرائی اور اپنی حالت پر شیخ سعدی علیہ الرحمہ کی وہ مثل صادق کر لی جو بوستان میں ہے اور وہ یہ ہے:۔ یکے نیک خلق و خلق پوش بود که در مصر یک چند خاموش بود جہانے برد بود از صدق جمع چو پروانه ها وقت شب گرد شمع ۲۸ شب در دل خویش اندیشه کرد که پوشیده زیر زبان است مرد که دانش ورم اگر ماند فطنت نهان در سرم دانند مردم سخن گفت و دشمن بدانست و دوست که در مصر ناداں تر از وے ہموست