براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 179
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۷۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم سے بھی نشان ظاہر ہوئے ۔ اور آسمان سے بھی اور دوستوں میں بھی اور دشمنوں میں بھی اور کوئی مہینہ شاذ و نادر اس سے خالی جاتا ہوگا کہ کوئی نشان ظاہر نہ ہو ۔ اور اب بھی فوق العادت نشان کا وعدہ ہے جس کا نام قیامت خیز زلزلہ رکھا گیا ہے جو دنیا کو وہ ہاتھ دکھائے گا جس کو کبھی دنیا نے دیکھا نہیں ہوگا۔ پس اگر خدا کا خوف ہے تو کیوں کچھ عرصہ تک صبر نہیں کیا جاتا۔ یہ زلزلہ محض اس لئے ہوگا کہ تا خدا صادق کے صدق کو ظاہر کرے اور انسانوں کو موقع دے کہ وہ راستی کو ایک چمکتے ہوئے نشان کے ساتھ دیکھ لیں اگر چہ اس کے بعد ایمان لانا کچھ بہت قابل عزت نہیں ہو گا مگر تا ہم قبول کرنے والے اس رحمت سے حصہ لیں گے جو ایمان داروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ قولہ: کیا احمد بیگ کی لڑکی کا قصہ مرزائی الہامات کی رونق کو دور نہیں کرتا ؟ اقول ۔ اے معترض صاحب! کیا پہلے بیہودہ اعتراضات کی ندامت آپ کے لئے کچھ تھوڑی تھی کہ اس لغو اعتراض کی ندامت کا بھی آپ نے حصہ لے لیا۔ اب آپ کان کھول کر سنیئے کہ اس پیشگوئی کے دو حصہ تھے اور دونوں شرطی تھے۔ ایک حصہ شرطی طور پر (۲۵) احمد بیگ کی وفات کے متعلق تھا ۔ یعنی اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ اگر وہ خدا تعالیٰ کی قرار داد شرطوں کا پابند نہ ہو تو تین برس پورے ہونے سے پہلے ہی فوت ہو جائے گا۔اور نہ صرف وہی بلکہ اس کے ساتھ اور کئی موتیں اس کے اقارب کی ہوں گی ۔ پس چونکہ وہ شوخی کی راہ سے کسی شرط کا پابند نہ ہو سکا اس لئے خدا نے اس کو میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی اس جہان سے اُٹھا دیا اور کئی موتیں اور بھی ساتھ ہوئیں ۔ مگر دوسرا حصہ پیشگوئی کا جو احمد بیگ کے داماد کی نسبت تھا اُس میں اس وجہ سے تاخیر ڈال دی گئی کہ باقی ماندہ لوگوں نے شرط کے مضمون سے اپنے دلوں میں خوف پیدا کیا اور بہت ڈرے اور یہ بات ہر ایک کی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اگر دو شخص کی موت کی نسبت کوئی پیشگوئی ہو ۔ اور ایک اُن میں سے میعاد کے اندر مر جائے تو طبعا دوسرے کے دل میں خوف پیدا ہو جاتا ہے۔