براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 166
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۶۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں شائع کیا گیا ہے کہ مکذبوں کو ایک نشان دکھایا جائے گا۔ اور پھر اشتہار الانذاز میں لکھا ہے کہ آنے والا زلزلہ قیامت خیز زلزلہ ہوگا۔ پھر النداء میں لکھا ہے کہ آنے والے زلزلہ سے زمین زیروز بر ہو جائے گی۔ پھر اسی میں لکھا ہے کہ یہ عظیم الشان حادثہ محشر کے حادثہ کو یاد دلائے گا۔ اور پھر اسی میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تیرے لئے زمین پر اتروں گا تا اپنے نشان دکھلاؤں ۱۳) ہم تیرے لئے زلزلہ کا نشان دکھلائیں گے۔ اور وہ عمارتیں جن کو غافل انسان بناتے ہیں یا آئندہ بنائیں گے گرا دیں گے اور میں وہ نشان ظاہر کروں گا جس سے زمین کانپ اٹھے گی تب وہ روز دنیا کے لئے ایک ماتم کا دن ہوگا پھر اس اشتہار میں جس کی سرخی ہے زلزلہ کی خبر با رسوم ۔ آنیوالے زلزلہ کی نسبت یہ عبارت لکھی ہے کہ در حقیقت یہ بیچ ہے اور بالکل سچ ہے کہ وہ زلزلہ اس ملک پر آنے والا ہے جو پہلے کسی آنکھ نے نہیں دیکھا۔ اور نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی دل میں گذرا۔ اب ایمانا کہو کہ انجیل میں زلزلہ کے بارے میں اس قسم کی عبارتیں کہاں ہیں اور اگر ہیں تو وہ پیش کرنی چاہئیں ورنہ خدا تعالیٰ سے خوف کر کے اس حق پوشی سے باز آنا چاہئے۔ قوله - ترجمہ میں زلزلہ کا لفظ بھی داخل کر دیا تا کہ جاہل لوگ یہ سمجھیں کہ الہام میں زلزلہ کا لفظ بھی موجود ہے۔ اقول اے اندھے صاحب پیشگوئی کے مجموعی الفاظ یہ ہیں ۔ زلزلہ کا دھکا عفت الديار محلها و مقامها - دیکھو اخبار الحکم ۱۹۰۳ء ۱۹۰۴ء ان دونوں کے معنے یہ ہوئے کہ ایک زلزلہ کا دھکا لگے گا اور اس دھکا سے ایک حصہ اس ملک کا تباہ ہو جائے گا۔ اور عمارتیں گر جائیں گی اور نابود ہو جائیں گی۔ اب بتلاؤ کہ کیا ہم نے جاہلوں کو دھوکا دیا ہے۔ جیسا کہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں میری کتاب مواہب الرحمن میں بھی جو ۱۹۰۲ء میں چھپ کر شائع ہوگئی تھی صریح لفظوں میں یہ پیشگوئی ہے اور زلزلہ کا نام لے کر ذکر موجود ہے۔ پھر اس حالت میں جاہل تو وہ لوگ ہیں کہ جو اتنی تصریح اور توضیح کے بعد بھی سمجھتے ہیں کہ زلزلہ کا کہاں ذکر ہے ان کو چاہیے کہ آنکھیں کھول کر اخبار الحکم ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ء کو پڑھیں اور رسالہ آمین