براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 162
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۶۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم پہلے حصہ میں جو ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۳ء میں اُسی اخبار الحکم میں درج ہوئی ہے صاف اور صریح لفظوں میں زلزلہ کا ذکر بھی شائع ہو چکا ہے تو ایسے معترض کی عقل پر ہنسیں یا روویں جو کہتا ہے جو زلزلہ کی کوئی پیشگوئی نہیں کی ۔ اب یادر ہے کہ وحی الہی یعنی عفت الديار محلها ومقامها بیروہ کلام ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے خدا تعالیٰ نے لبید بن ربيعة العامری کے دل میں ڈالا تھا جو اُس کے اس قصیدہ کا اوّل مصرع ہے جو سبعہ معلقہ کا چوتھا قصیدہ ہے اور لبید نے زمانہ اسلام کا پایا تھا اور مشرف باسلام ہو گیا تھا اور صحابہ رضی اللہ عنھم میں داخل تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کے کلام کو یہ عزت دی کہ جو آخری زمانہ کی نسبت ایک عظیم الشان پیشگوئی تھی کہ ایسی ایسی تباہیاں ہوں گی جن سے ایک ملک تباہ ہو گا وہ اُسی کے مصرع کے الفاظ میں بطور وحی فرمائی گئی جو اس کے منہ سے نکلی تھی ۔ پس یہ تعجب سخت نادانی ہے کہ ایک کلام جو مسلمان کے منہ سے نکلا ہے وہ کیوں وحی الہی میں داخل ہوا۔ کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں وہ کلام جو عبد اللہ بن ابی سرح کے منہ سے نکلا تھا یعنی فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَ وہی قرآن شریف میں نازل ہوا جس کی وجہ سے عبداللہ بن ابی سرح مرتد ہو کر مکہ کی طرف بھاگ گیا۔ پس جب کہ خدا تعالیٰ کے کلام کا ایک مرتد کے کلام سے توارد ہوا تو اس سے کیوں تعجب کرنا چاہیے کہ لبید جیسے صحابی بزرگوار کے کلام سے اس کے کلام کا توارد ہو جائے ۔ خدا تعالیٰ جیسے ہر ایک چیز کا وارث ہے ہر ایک پاک کلام کا بھی وارث ہے اور ہر ایک پاک کلام اُسی کی توفیق سے منہ سے نکلتا ہے۔ پس اگر ایسا کلام بطور وحی نازل ہو جائے تو اس بارے میں وہی شخص شک کرے گا جس کو اسلام میں شک ہو۔ اور لبید کے فضائل میں سے ایک یہ بھی تھا جو اس نے نہ صرف دیکھو۔ تفسير ا العلامه ابى السعود على حاشية التفسير الكبير صفحہ ۲۷۶ و ۷ ۲۷ جلد ۶ ۔