براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 163
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۶۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا بلکہ زمانہ ترقیات اسلام کا خوب دیکھا اور ا۴ ہجری میں ۱۵۷ ایک سوستاون برس کی عمر پا کر فوت ہوا۔ اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کلام سے بھی کئی مرتبہ قرآن شریف کا توارد ہوا جیسا کہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ قال قال عمر وَافَقْتُ (۱۰) رَبِّي فِي اربع یعنی چار باتیں جو میرے منہ سے نکلیں وہی خدا تعالیٰ نے فرما ئیں اور اگر ہم اس امت مرحومہ کے اولیاء کرام کا ذکر کریں کہ کس قدر دوسروں کے کلام بطور الہام اُن کے دلوں پر القا ہوئے اور بعض کو مثنوی رومی کے اشعار بطور الہام منجانب اللہ دل پر ڈالے گئے تو یہ بیان ایک علیحدہ رسالہ کو چاہتا ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ جس شخص کو ایک ذرا واقفیت بھی اس کو چہ سے ہوگی وہ کبھی اس بات کو منہ پر نہیں لائے گا کہ خدا کے کلام کو انسان کے کلام سے توار نہیں ہو سکتا بلکہ ہر ایک شخص جو کسی قدر علم شریعت سے حصہ رکھتا ہے وہ ایسے کلمہ کو موجب کفر سمجھے گا کیونکہ اس عقیدہ سے قرآن شریف سے انکار کرنالازم آتا ہے۔ اس جگہ ایک اشکال بھی ہے اور ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ اس اشکال کو بھی حل کر دیں۔ وہ یہ ہے کہ اگر یہ جائز ہے کہ کسی انسان کے کلام سے خدا کے کلام کا توارد ہو تو ایسا ہونا قرآن شریف کے معجزہ ہونے میں قدح پیدا کرتا ہے لیکن جیسا کہ صاحب تفسیر کبیر اور دوسرے مفسروں نے لکھا ہے کوئی جائے اشکال نہیں کیونکہ اس قدر قلیل کلام پر اعجاز کی بنانہیں ورنہ قرآن شریف کے کلمات بھی وہی ہیں جو اور عربوں کے منہ سے نکلتے تھے اعجازی صورت کے پیدا ہونے کے لئے ضروری ہے کہ خدا کا کلام کم سے کم اس سورۃ کے برابر ہو جو سب سے چھوٹی سورۃ قرآن شریف میں ہے یا کم سے کم دس آیتیں ہوں کیونکہ اسی قدر کو قرآن شریف نے معجزہ پھہرایا ہے ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ اگر کسی شخص کا کلام خدا کے کلام میں بطور وحی کے داخل ہو جائے تو وہ بہر حال اعجاز کا رنگ پکڑ سکتا ہے۔ مثلاً یہی وحی الہی یعنی عَفَتِ الديار محلها و مقامها جب لبید رضی اللہ عنہ کے منہ سے شعر کے طور پر نکلی تو یہ معجزہ نہ تھی لیکن جب وحی کے طور پر ظاہر ہوئی تو اب معجزہ ہوگئی کیونکہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے انسان کا کلام ہونا چاہیے۔ (ناشر)