براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 154
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۵۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم قابل وقعت چیز نہیں بلکہ مہمل اور نا قابل التفات ہے۔الجواب۔ واضح ہو کہ معترض نے اس جگہ وہ میری عبارت پیش کی ہے کہ جو میں نے انجیل متی کی ایک پیشگوئی پر جو حضرت مسیح کی طرف منسوب کی جاتی ہے ازالہ اوہام میں لکھی ہے۔ اور اس جگہ کافی ہوگا کہ وہی عبارت زلزلہ کی نسبت جو انجیل متی میں حضرت مسیح کے نام پر مندرج ہے جس کو میں نے ازالہ اوہام میں نقل کیا ہے پبلک کے سامنے پیش کر دی جائے اور پھر وہ عبارتیں جو میری پیشگوئیوں میں دونوں زلزلوں کی نسبت بذریعہ اشتہارات شائع ہو چکی ہیں بالمقابل اس جگہ لکھ دی جائیں تا ناظرین خود سمجھ لیں کہ کیا ان دونوں پیشگوئیوں کی ایک ہی صورت ہے یا ان میں کچھ فرق بھی ہے اور کیا میری پیشگوئی میں بھی زلزلہ کی نسبت صرف معمولی الفاظ ہیں جو ہر ایک زلزلہ پر صادق آسکتے ہیں جیسا که انجیل متی کے الفاظ ہیں یا میری پیشگوئی فوق العادت زلزلہ کی خبر دیتی ہے۔ اور اس جگہ اس بات کا ذکر کرنا بھی بے موقعہ نہ ہوگا کہ جس سرزمین میں حضرت مسیح تھے یعنی ملک شام میں اُس ملک کی قدیم سے ایسی صورت ہے کہ ہمیشہ اس میں زلزلے آیا کرتے ہیں جیسا کہ کشمیر میں اور ہمیشہ طاعون بھی اُس ملک میں آیا کرتی ہے پس اُس ملک کے لئے یا عجوبہ نہیں ہے کہ اُس میں زلزلہ آوے یا طاعون پیدا ہو بلکہ کوئی بڑا زلزلہ آنا بھی عجیب بات نہیں ہے حضرت مسیح کی پیدائش سے بھی پہلے اس میں زلزلے آچکے ہیں اور ان کی زندگی میں بھی ہمیشہ سخت اور نرم زلزلے آتے رہے ہیں۔ پھر معمولی بات کی نسبت پیشگوئی کیا ہوگی؟ مگر ہم آگے چل کر بیان کریں گے کہ یہ زلزلہ جس کی پیشگوئی میں نے کی تھی اس ملک کے لئے کوئی معمولی بات نہ تھی بلکہ ایک انہونی اور فوق العادت بات تھی جس کو تمام ملک کے رہنے والوں نے فوق العادت قرار دیا بلکہ نمونہ قیامت سمجھا اور تمام محقق انگریزوں نے بھی یہی گواہی دی اور تاریخ پنجاب بھی یہی شہادت دیتی ہے اور نیز پرانی عمارتیں جو قریبا سولہ سو برس سے محفوظ چلی آئیں بزبان حال یہی شہادت دے رہی ہیں مگر سب کو معلوم ہے کہ ملک شام میں تو اس کثرت سے زلزلے آتے ہیں کہ جب وہ پیشگوئی