براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 140
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۴۰ براہین احمدیہ حصہ پنجم دیں کو دے کر ہاتھ سے دنیا بھی آخر جاتی ہے کوئی آسودہ نہیں بن عاشق و شیدائے یار 110 رنگ تقویٰ سے کوئی رنگت نہیں ہے خوب تر ہے یہی ایماں کا زیور ہے یہی دیں کا سنگار سو چڑھے سورج نہیں بن روئے دلبر روشنی یہ جہاں بے وصل دلبر ہے شب تاریک و تار اے مرے پیارے جہاں میں تو ہی ہے اک بے نظیر جو ترے مجنوں حقیقت میں وہی ہیں ہوشیار اس جہاں کو چھوڑنا ہے تیرے دیوانوں کا کام نقد پالیتے ہیں وہ اور دوسرے امیدوار کون ہے جس کے عمل ہوں پاک بے انوار عشق کون کرتا ہے وفا بن اس کے جس کا دل فگار غیر ہوکر غیر پر مرنا کسی کو کیا غرض کون دیوانہ بنے اس راہ میں لیل و و نهار کون چھوڑے خواب شیریں کون چھوڑے اکل و شرب کون لے خار مغیلاں چھوڑ کر پھولوں کے ہار عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پر خطر عشق ہے جو سرجھکاوے زیر تیغ آب دار پر ہزار افسوس دنیا کی طرف ہیں جھک گئے وہ جو کہتے تھے کہ ہے یہ خانہ؟ ناپائدار جس کو دیکھو آجکل وہ شوخیوں میں طاق ہے آہ رحلت کر گئے وہ سب جو تھے تقویٰ شعار ممبروں پر اُن کے سارا گالیوں کا وعظ ہے مجلسوں میں اُن کی ہردم سب و غیبت کاروبار جس طرف دیکھو یہی دنیا ہی مقصد ہوگئی ہر طرف اس کے لئے رغبت دلائیں بار بار ایک کانٹا بھی اگر دیں کے لئے اُن کو لگے بیچ کر اس سے وہ بھاگیں شیر سے جیسے حمار ہر زماں شکوہ زباں پر ہے اگر ناکام ہیں دیں کی کچھ پروا نہیں دنیا کے غم میں سوگوار لوگ کچھ باتیں کریں میری تو باتیں اور ہیں میں فدائے یار ہوں کو تیغ کھینچ صد ہزار اے مرے پیارے بتا تو کس طرح خوشنود ہو نیک دن ہوگا وہی جب تجھ پہ ہوویں ہم شار جس طرح تو دور ہے لوگوں سے میں بھی دور ہوں ہے نہیں کوئی بھی جو ہو میرے دل کا راز دار نیک ظن کرنا طریق صالحانِ قوم ہے ایک سو پر دے میں ہوں اُن سے نہیں ہوں آشکار