براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 139
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۳۹ براہین احمدیہ حصہ پنجم تو ہی بگڑی کو بناوے توڑ دے جب بن چکا تیرے بھیدوں کو نہ پاوے سو کرے کوئی بچار جب کوئی دل ظلمت عصیاں میں ہووے مبتلا تیرے بن روشن نہ ہووے گو چڑھے سورج ہزار ۱۰۹ اس جہاں میں خواہش آزادگی بے سود ہے اک تری قید محبت ہے جو کردے رستگار دل جو خالی ہو گداز عشق سے وہ دل ہے کیا دل وہ ہے جس کو نہیں بے دلبر یکتا قرار فقر کی منزل کا ہے اوّل قدم نفی وجود پس کرو اس نفس کو زیرو زبر از بهر یار تلخ ہوتا ہے ثمر جب تک کہ ہو وہ ناتمام اس طرح ایماں بھی ہے جب تک نہ ہو کامل پیار تیرے منہ کی بھوک نے دل کو کیا زیروزبر اے مرے فردوس اعلیٰ اب گرا مجھ پر ثمار اے خدا اے چارہ ساز درد ہم کو خود بیچا اے مرے زخموں کے مرہم دیکھ میرا دلفگار باغ میں تیری محبت کے عجب دیکھے ہیں پھل ملتے ہیں مشکل سے ایسے سیب اور ایسے انار تیرے بن اے میری جاں یہ زندگی کیا خاک ہے ایسے جینے سے تو بہتر مرکے ہو جانا غبار گر نہ ہو تیری عنایت سب عبادت بیچ ہے فضل پر تیرے ہے سب جہدوعمل کا انحصار جن پہ ہے تیری عنایت وہ بدی سے دور ہیں رہ میں حق کی قوتیں اُن کی چلیں بن کر قطار چُھٹ گئے شیطاں سے جو تھے تیری الفت کے اسیر جو ہوئے تیرے لئے بے برگ وئر پائی بہار سب پیاسوں سے نکوتر تیرے منہ کی ہے پیاس جس کا دل اس سے ہے بریاں پا گیا وہ آبشار جس کو تیری دھن لگی آخر وہ تجھ کو جاملا جس کو بے چینی ہے یہ وہ پا گیا آخر قرار عاشقی کی ہے علامت گریه و دامان دشت کیا مبارک آنکھ جو تیرے لئے ہو اشکبار تیری درگہ میں نہیں رہتا کوئی بھی بے نصیب شرط رہ پر صبر ہے اور ترک نام اضطرار میں تو تیرے حکم سے آیا مگر افسوس ہے چل رہی ہے وہ ہوا جو رخنہ انداز بہار جیفہ دنیا پر یکسر گر گئے دنیا کے لوگ زندگی کیا خاک اُن کی جو کہ ہیں مردار خوار