براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 136
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۳۶ براہین احمدیہ حصہ پنجم 6104 بحث کرنا تم سے کیا حاصل اگر تم میں نہیں روح انصاف و خدا ترسی کہ ہے دیں کا مدار کیا مجھے تم چھوڑتے ہو جاہ دنیا کے لئے جاہ دنیا کب تلک دنیا ہے خود نا پائیدار کون در پردہ مجھے دیتا ہے ہر میدان میں فتح کون ہے جو تم کو ہر دم کر رہا ہے شرمسار تم تو کہتے تھے کہ یہ نابود ہو جائے گا جلد یہ ہمارے ہاتھ کے نیچے ہے اک ادنی شکار بات پھر یہ کیا ہوئی کس نے مری تائید کی خائب و خاسر رہے تم ۔ ہوگیا میں کامگار اک زمانہ تھا کہ میرا نام بھی مستور تھا قادیاں بھی تھی نہاں ایسی کہ گویا زیر غار کوئی بھی واقف نہ تھا مجھ سے نہ میرا معتقد لیکن اب دیکھو کہ چرچا کس قدر ہے ہر کنار اُس زمانہ میں خدا نے دی تھی شہرت کی خبر جو کہ اب پوری ہوئی بعد از مرور روزگار کھول کر دیکھو برا ہیں جو کہ ہے میری کتاب اس میں ہے یہ پیشگوئی پڑھ لو اس کو ایک بار اب ذرہ سوچو کہ کیا یہ آدمی کا کام ہے اس قدر امر نہاں پر کسی بشر کو اقتدار قدرت رحمان و مکر آدمی میں فرق ہے جو نہ سمجھے وہ نجمی از فرق تا پا ہے حمار سوچ لو اے سوچنے والو کہ اب بھی وقت ہے راہِ حرماں چھوڑ دو رحمت کے ہو امیدوار سوچ لو یہ ہاتھ کس کا تھا کہ میرے ساتھ تھا کس کے فرماں سے میں مقصد پا گیا اور تم ہو خوار یہ بھی کچھ ایماں ہے یارو ہم کو سمجھائے کوئی جس کا ہر میداں میں پھل حرماں ہے اور ذلت کی مار غل مچاتے ہیں کہ یہ کافر ہے اور دجال ہے میں تو خود رکھتا ہوں اُن کے دیں سے اور ایماں سے عار گر یہی دیں ہے جو ہے اُن کی خصائل سے عیاں میں تو اک کوڑی کو بھی لیتا نہیں ہوں زینہار جان و دل سے ہم نارِ ملتِ اسلام ہیں لیک دیں وہ رہ نہیں جس پر چلیں اہل نقار واہ رے جوش جہالت خوب دکھلائے ہیں رنگ جھوٹ کی تائید میں حملے کریں دیوانہ وار نازمت کر اپنے ایماں پر کہ یہ ایماں نہیں اس کو ہیر امت گماں کر ہے یہ سنگِ کوہسار