براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 137
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۳۷ براہین احمدیہ حصہ پنجم دیتا ہوگا دو ہاتھوں سے کہ ہے ہے مرگئے جب کہ ایماں کے تمہارے گند ہوں گے آشکار ہے۔ ا لکھے ہے یہ گھر گرنے پر اے مغرور لے جلدی خبر تا نہ دب جائیں ترے اہل و عیال و رشتہ دار یہ عجب بد قسمتی ہے کس قدر دعوت ہوئی پر اُترتا ہی نہیں ہے جام غفلت کا شمار ہوش میں آتے نہیں سو سو طرح کوشش ہوئی ایسے کچھ سوئے کہ پھر ہوتے نہیں ہیں ہوشیار دن بُرے آئے اکٹھے ہوگئے قحط و و با اب تلک تو بہ نہیں اب دیکھئے انجام کار ہے غضب کہتے ہیں اب وحی خدا مفقود ہے اب قیامت تک ہے اِس اُمت کا قصوں پر مدار یہ عقیده برخلاف گفته دادار ہے پر اُتارے کون برسوں کا گلے سے اپنے ہار وہ خدا اب بھی بناتا ہے جسے چاہے کلیم اب بھی اُس سے بولتا ہے جس سے وہ کرتا ہے پیار گوہر وحی خدا کیوں توڑتا ہے ہوش کر اک یہی دیں کے لئے ہے جائے عز و افتخار یہ وہ گل ہے جس کا ثانی باغ میں کوئی نہیں یہ وہ خوشبو ہے کہ قرباں اس پہ ہو مشک تتار یہ وہ ہے مفتاح جس سے آسماں کے در کھلیں یہ وہ آئینہ ہے جس سے دیکھ لیں روئے نگار بس یہی ہتھیار ہے جس سے ہماری فتح ہے بس یہی اک قصر ہے جو عافیت کا ہے حصار ہے خدا دانی کا آلہ بھی یہی اسلام میں محض قصوں سے نہ ہو کوئی بشر طوفاں سے پار ہے یہی وحی خدا عرفانِ مولیٰ کا نشاں جس کو یہ کامل ملے اُس کو ملے وہ دوستدار واہ رے باغ محبت موت جس کی رہ گذر وصلِ یار اُس کا ثمر پر ارد گرد اُس کے ہیں خار ایسے دل پر داغ لعنت ہے ازل سے تا ابد جو نہیں اس کی طلب میں بے خود و دیوانہ وار پر جو دنیا کے بنے کپڑے وہ کیا ڈھونڈیں اُسے دیں اُسے ملتا ہے جو دیں کے لئے ہو بے قرار ہر طرف آواز دینا ہے ہمارا کام آج جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار یاد وہ دن جب کہ کہتے تھے یہ سب ارکانِ دیں مہدی موعود حق اب جلد ہوگا آشکار