براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 127
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۲۷ براہین احمدیہ حصہ پنجم اے خدا اے کارساز و عیب پوش و کردگار اے مرے پیارے مرے محسن مرے پروردگار (۹۷) کس طرح تیرا کروں اے ذوالمن شکر و سپاس وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار بدگمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ کر دیا دشمن کو اک حملہ سے مغلوب اور خوار کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں جزا مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعت قرب وجوار کرم خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار یہ سراسر فضل و احساس ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار دوستی کا دم جو بھرتے تھے وہ سب دشمن ہوئے پر نہ چھوڑا ساتھ تو نے اے میرے حاجت برار اے مرے یار یگانہ اے مری جاں کی پنہ بس ہے تو میرے لئے مجھ کو نہیں تجھ بن بکار میں تو مرکز خاک ہوتا گرنہ ہوتا تیرا لطف پھر خدا جانے کہاں یہ پھینک دی جاتی غبار اے فدا ہو تیری رہ میں میرا جسم و جان و دل میں نہیں پاتا کہ تجھ سا کوئی کرتا ہو پیار ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کئے گود میں تیری رہا میں مثل طفلِ شیر خوار نسل انساں میں نہیں دیکھی وفا جو تجھے میں ہے تیرے بن دیکھا نہیں کوئی بھی یار غمگسار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہوکر پا گیا درگہ میں بار اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و کرم جن کا مشکل ہے کہ تاروزِ قیامت ہو شمار آسماں میرے لئے تو نے بنایا اک گواہ چاند اور سورج ہوئے میرے لئے تاریک و تار تو نے طاعوں کو بھی بھیجا میری نصرت کے لئے تا وہ پورے ہوں نشاں جو ہیں سچائی کا مدار ہو گئے بیکار سب حیلے جب آئی وہ بلا ساری تدبیروں کا خاکہ اُڑ گیا مثل غبار سرزمین ہند میں ایسی ہے شہرت مجھ کو دی جیسے ہو دے برق کا اک دم میں ہر جا انتشار