براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 128 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 128

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۲۸ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۹۸ پھر دوبارہ ہے اُتارا تو نے آدم کو یہاں تا وہ نخلِ راستی اس ملک میں لاوے ثمار لوگ سو بک بک کریں پر تیرے مقصد اور ہیں تیری باتوں کے فرشتے بھی نہیں ہیں راز دار ہاتھ میں تیرے ہے ہر خسران و نفع و عسر و ئیسر تو ہی کرتا ہے کسی کو بے نوا یا بختیار جس کو چاہے تخت شاہی پر بٹھا دیتا ہے تو جس کو چاہے تخت سے نیچے گرا دے کر کے خوار میں بھی ہوں تیرے نشانوں سے جہاں میں اک نشاں جس کو تو نے کردیا ہے قوم و دیں کا افتخار فانیوں کی جاہ و حشمت پر بلا آوے ہزار سلطنت تیری ہے جو رہتی ہے دائم برقرار عزت و ذلت یہ تیرے حکم پر موقوف ہیں تیرے فرماں سے خزاں آتی ہے اور بادہ بہار میرے جیسے کو جہاں میں تو نے روشن کر دیا کون جانے اے مرے مالک ترے بھیدوں کی سار تیرے اے میرے مربی کیا عجائب کام ہیں گرچہ بھا گئیں جبر سے دیتا ہے قسمت کے ثمار ابتدا سے گوشئہ خلوت رہا مجھے کو پسند شہرتوں سے مجھ کو نفرت تھی ہر اک عظمت سے عار پر مجھے تو نے ہی اپنے ہاتھ سے ظاہر کیا میں نے کب مانگا تھا یہ تیرا ہی ہے سب برگ و بار اس میں میرا جرم کیا جب مجھے کو یہ فرماں ملا کون ہوں تا رد کروں حکم شہ ذی الاقتدار اب تو جو فرماں ملا اُس کا ادا کرنا ہے کام گرچہ میں ہوں بس ضعیف و ناتواں و دل فگار دعوت ہر ہرزہ گو کچھ خدمت آساں نہیں ہر قدم میں کوہ ماراں ہرگذر میں دشت خار چرخ تک پہنچے ہیں میرے نعرہ ہائے روز و شب پر نہیں پہنچی دلوں تک جاہلوں کے یہ پکار قبضہ تقدیر میں دل ہیں اگر چاہے خدا پھیر دے میری طرف آجائیں پھر بے اختیار گر کرے معجز نمائی ایک دم میں نرم ہو وہ دل سنگیں جو ہووے مثل سنگ کوہسار ہائے میری قوم نے تکذیب کر کے کیا لیا زلزلوں سے ہو گئے صدہا مساکن مثل غار شرط تقویٰ تھی کہ وہ کرتے نظر اس وقت پر شرط یہ بھی تھی کہ کرتے صبر کچھ دن اور قرار