براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 124
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۲۴ براہین احمدیہ حصہ پنجم آگ نہیں ہے مگر چونکہ آگ نہایت درجہ اس پر غلبہ کر گئی ہے اس لئے آگ کے صفات اُس سے ظاہر ہوتے ہیں۔ وہ آگ کی طرح جلا سکتا ہے۔ آگ کی طرح اس میں روشنی ہے۔ پس محبت الہیہ کی حقیقت یہی ہے کہ انسان اس رنگ سے رنگین ہو جائے اور اگر اسلام اس حقیقت ۹۵ تک پہنچانہ سکتا تو وہ کچھ چیز نہ تھا لیکن اسلام اس حقیقت تک پہنچاتا ہے۔ اوّل انسان کو چاہیے کہ لوہے کی طرح اپنی استقامت اور ایمانی مضبوطی میں بن جائے کیونکہ اگر ایمانی حالت خس و خاشاک کی طرح ہے تو آگ اُس کو چھوتے ہی بھسم کر دے گی ۔ پھر کیونکر وہ آگ کا مظہر بن سکتا ہے۔ افسوس بعض نادانوں نے عبودیت کے اُس تعلق کو جو ربوبیت کے ساتھ ہے جس سے خالی طور پر صفات الہیہ بندہ میں پیدا ہوتے ہیں نہ سمجھ کر میری اس وحی من اللہ پر اعتراض کیا ہے کہ انما امرك اذا اردت شيئًا ان تقول له كن فيكون یعنی تیری یہ بات ہے کہ جب تو ایک بات کو کہے کہ ہو جا تو وہ ہو جاتی ہے ۔ یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے جو میرے پر نازل ہوا یہ میری طرف سے نہیں ہے اور اس کی تصدیق ا کا بر صوفیہ اسلام کر چکے ہیں جیسا کہ سید عبد القادر جیلانی نے بھی فتوح الغیب میں یہی لکھا ہے اور عجیب تر یہ کہ سید عبدالقادر جیلانی نے بھی یہی آیت پیش کی ہے۔ افسوس لوگوں نے صرف رسمی ایمان پر کفایت کر لی ہے اور پوری معرفت کی طلب ان کے نزدیک کفر ہے اور خیال کرتے ہیں کہ یہی ہمارے لئے کافی ہے حالانکہ وہ کچھ بھی چیز نہیں اور اس سے منکر ہیں کہ کسی سے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ یقینی اور واقعی طور پر ہوسکتا ہے۔ ہاں اس قدر اُن کا خیال ہے کہ دلوں میں القا تو ہوتا ہے مگر نہیں معلوم کہ وہ القا شیطانی ہے یا رحمانی ہے اور نہیں سمجھتے کہ ایسے القا سے ایمانی حالت کو فائدہ کیا ہوا اور کونسی ترقی ہوئی بلکہ ایسا القا تو ایک سخت ابتلا ہے جس میں معصیت کا اندیشہ یا ایمان جانے کا خطرہ ہے کیونکہ اگر ایسی مشتبہ وحی میں جو نہیں معلوم شیطان سے ہے یا رحمان سے ہے کسی کو تاکیدی حکم ہو کہ یہ کام کر تو اگر اس نے وہ کام نہ کیا اس خیال سے کہ شاید یہ شیطان نے حکم دیا ہے