براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 123
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۲۳ براہین احمدیہ حصہ پنجم پھر ذوالقرنین یعنی مسیح موعود ایک اور سامان کے پیچھے پڑے گا۔ اور جب وہ ایک ایسے موقعہ پر پہنچے گا یعنی جب وہ ایک ایسا نازک زمانہ پائے گا جس کو بین السدین کہنا چاہیے یعنی دو پہاڑوں کے بیچ مطلب یہ کہ ایسا وقت پائے گا جب کہ دو طرفہ خوف میں لوگ پڑے ہوں گے اور ضلالت کی طاقت حکومت کی طاقت کے ساتھ مل کر خوفناک نظارہ دکھائے گی تو ان دونوں طاقتوں کے ماتحت ایک قوم کو پائے گا جو اُس کی بات کو مشکل سے سمجھیں گے یعنی غلط خیالات میں مبتلا ہوں گے اور باعث غلط عقائد مشکل سے اُس ہدایت کو سمجھیں گے جو وہ پیش کرے گا لیکن آخر کار سمجھ لیں گے اور ہدایت پالیں گے اور یہ تیسری قوم ہے جو مسیح موعود کی ہدایات سے فیض یاب ہوں گے تب وہ اس کو کہیں گے کہ اے ذوالقرنین ! یا جوج اور ماجوج نے زمین پر فساد مچارکھا ہے پس اگر آپ کی مرضی ہو تو ہم آپ کے لئے چندہ جمع کر دیں تا آپ ہم میں اور ان میں کوئی روک بنادیں۔ وہ جواب میں کہے گا کہ جس بات پر خدا نے مجھے قدرت بخشی ہے وہ تمہارے چندوں سے بہتر ہے ہاں اگر تم نے کچھ مدد کرنی ہو تو اپنی طاقت کے موافق کرو تا میں تم میں اور ان میں ایک دیوار کھینچ دوں۔ یعنی ایسے طور پر اُن پر حجت پوری کروں کہ وہ کوئی طعن تشنیع اور اعتراض کا تم پر حملہ نہ کرسکیں۔ لوہے کی سلیں مجھے لا دو تا آمد ورفت کی راہوں کو بند کیا جائے یعنی اپنے تئیں میری تعلیم اور دلائل پر مضبوطی سے قائم کرو اور پوری استقامت اختیار کرو اور اس طرح پر خود لوہے کی سل بن کر مخالفانہ حملوں کو روکو اور پھر سلوں میں آگ پھونکو جب تک کہ وہ خود آگ بن جائیں۔ یعنی محبت الہی اس قدر اپنے اندر بھڑکاؤ کہ خود انہی رنگ اختیار کرو۔ یا د رکھنا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ سے کمال محبت کی یہی علامت ہے کہ محبت میں ظلی طور پر الہی صفات پیدا ہو جائیں اور جب تک ایسا ظہور میں نہ آوے تب تک دعویٰ محبت جھوٹ ہے۔ محبت کا ملہ کی مثال بعینہ لوہے کی وہ حالت ہے جب کہ وہ آگ میں ڈالا جائے اور اس قدر آگ اُس میں اثر کرے کہ وہ خود آگ بن جائے۔ پس اگر چہ وہ اپنی اصلیت میں لوہا ہے