براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 122

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۲۲ براہین احمدیہ حصہ پنجم روشنی بھی جاتی رہے کی اس تقسیم سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح موعود کا اپنے فرض منصبی کے ادا کرنے کے لئے تین قسم کا دورہ ہوگا۔ اول اس قوم پر نظر ڈالے گا جو آفتاب ہدایت کو کھو بیٹھے ہیں اور ایک تاریکی اور کیچڑ کے چشمہ میں بیٹھے ہیں۔ دوسرا دورہ اس کا ان لوگوں پر ہوگا جونگ دھڑنگ آفتاب کے سامنے بیٹھے ہیں۔ یعنی ادب سے اور حیا سے اور تواضع سے اور نیک ظن سے کام نہیں لیتے۔ نرے ظاہر پرست ہیں گویا آفتاب کے ساتھ لڑنا چاہتے ہیں سو وہ بھی فیض آفتاب سے بے نصیب ہیں اور ان کو آفتاب سے بجزر جلنے کے اور کوئی حصہ نہیں۔ یہ ان مسلمانوں کی طرف اشارہ ہے جن میں مسیح موعود ظاہر تو ہوا مگر وہ انکار اور مقابلہ سے پیش آئے اور حیا اور ادب اور حسن ظن سے کام نہ لیا اس لئے سعادت سے محروم رہ گئے بعد اس کے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّذَيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لَّا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا قَالُوا بَذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَا جُوعَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا قَالَ مَا مَكَنِّي فِيْهِ رَبِّ خَيْرٌ فَاعِيْنُوْتِ بِقُوَّةٍ أَجْعَل بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا أَتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا ساوى بَيْنَ الصَّدَقَيْنِ قَالَ انْفُخَوْا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ أَتُونِي أَفْرِغْ عَلَيْهِ قِطرًا فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا قَالَ هُذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدَ رَبِّى جَعَلَهُ دَكَاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَى حَقًّا وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَبِذٍ يَّمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْتُهُمْ جَمْعًا وَعَرَضْنَا جَهَنَّمَ يَوْمَبِذٍ لِلْكَفِرِينَ عَرْضًا الَّذِيْنَ كَانَتْ أَعْيُنُهُمْ فِي غِطَاءِ عَنْ ذِكْرِى وَكَانُوْا لَا يَسْتَطِيعُوْنَ سَمْعًا أَفَحَسِبَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ يَتَّخِذُوا عِبَادِى مِنْ دُونِی اَوْلِيَاءَ إِنَّا أَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكَفِرِينَ نُزُلًا ۔ لے اس جگہ خدا تعالیٰ کو یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ مسیح موعود کے وقت تین گروہ ہوں گے۔ ایک گروہ تفریط کی راہ لے گا جو روشنی کو بالکل کھو بیٹھے گا اور دوسرا گر وہ افراط کی راہ اختیار کرے گا جو تواضع اور انکسار اور فروتنی سے روشنی سے فائدہ نہیں اٹھائے گا بلکہ خیرہ طبع ہو کر مقابلہ کرنے والے کی طرح روحانی دھوپ کے سامنے محض بر ہنہ ہونے کی حالت میں کھڑا ہوگا مگر تیسرا اگر وہ میانہ حالت میں ہوگا۔ وہ مسیح موعود سے چاہیں گے کہ کسی طرح یا جوج ماجوج کے حملوں سے بچ جائیں اور یا جوج ماجوج اجیج کے لفظ سے نکلا ہے یعنی وہ قوم جو آگ کے استعمال کرنے میں ماہر ہے۔ منہ الكهف : ۹۳ تا ۱۰۳