براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 86
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۸۶ براہین احمدیہ حصہ پنجم ممکن ہے کہ ایسے غیب کی باتیں جو نہاں در نہاں تھیں اُس شخص کی طرف منسوب ہوسکیں جو مفتری ہو حالانکہ خدائے تعالیٰ اپنے کلام عزیز میں فرماتا ہے کہ ہر ایک مومن پر غیب کامل کے امور ظاہر نہیں کئے جاتے بلکہ محض ان بندوں پر جو اصطفاء اور اجتباء کا مرتبہ رکھتے ہیں ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبة أحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ یا یعنی اللہ تعالیٰ اپنے غیب پر کسی کو غالب ہونے نہیں دیتا مگر اُن لوگوں کو جو اس کے رسول اور اس کی درگاہ کے پسندیدہ ہوں۔ افسوس کا مقام ہے کہ بعض نادان مولوی اور عالم کہلا کر بعض وعید کی پیشگوئیوں کی نسبت جن میں سے بعض پوری ہو گئیں اور بعض پوری ہونے کو ہیں اعتراض پیش کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ خدائے تعالیٰ اپنے وعید کی نسبت اختیار رکھتا ہے چاہے اُس کو پورا کرے یا ملتوی کر دے یہی تمام نبیوں کا مذہب ہے اور اسی پر رڈ بلا کا سلسلہ قائم کیا گیا ہے۔ کیونکہ ایک بلا جس کا خدا تعالیٰ نے کسی کی نسبت ارادہ کیا ہے خواہ وہ اُس بلا کو کسی نبی پر ظاہر کر کے پیشگوئی کے رنگ میں ظاہر فرمادے اور خواہ پوشیدہ رکھے وہ بہر حال بلا ہی ہے ۔ پس اگر وہ کسی طرح رد نہیں ہو سکتی تو پھر صدقہ اور خیرات اور دعا کی کیوں ترغیب دی ہے۔ نـــيــــه خیال میں گزرتے رہے کیونکہ انسان کا اپنا علم اور اپنا اجتہاد غلطی سے خالی نہیں لیکن جب یہ دونوں واقعات بعینہ ظہور میں آگئے۔ اور دو بزرگ اس جماعت کے بڑی بے رحمی سے کابل میں شہید کئے گئے تو حق الیقین کی طرح وحی الہی کے معنے معلوم ہو گئے اور جب اُس وحی کی تمام عبارت کو نظر اٹھا کر دیکھا تو آنکھ کھل گئی اور عجیب ذوق پیدا ہوا اور معلوم ہوا کہ جہاں تک تصریح ممکن ہے خدا نے تصریح سے اس پیشگوئی کو بیان کر دیا ہے اور ایسے الفاظ اختیار کئے ہیں اور ایسے فقرات بیان فرمائے ہیں کہ وہ دوسرے پر صادق آہی نہیں سکتے ۔ سبحان اللہ ! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کیسے اس نے ان پوشیدہ باتوں کو ایک زمانہ دراز پہلے براہین احمدیہ میں بتفریح بیان کر دیا۔ منہ الجن: ۲۷