براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 732 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 732

۔اگر کوئی کامل انسان لاکھوں عورتیں رکھتا ہو نیز اس کی سینکڑوں لونڈیاں اور لاکھوں کاروبار ہوں۔پھر اگر اس کی حضوری میں فرق پڑے تو وہ کامل نہیں بلکہ خدا کے قرب سے دور ہے۔نہ تو وہ کامل ہے نہ وہ بیدار مغز مرد ہے اگر تو عقل مند ہے تو اسے مردوں میں سے نہ سمجھ۔کامل وہ ہوتا ہے جو باوجود بیوی بچوں کے اور باوجود عیال اور جسمانی مشاغل کے۔اور باوجود تجارت اور خرید وفروخت کے کسی وقت بھی خدا سے غافل نہیں ہوتا۔یہ ہے مردوں والی طاقت کا نشان کاملوں کے لئے بس یہی معیار ہے۔جس کی جان دلبر کے عشق میں جلی ہوئی ہو وہ اس کو بھول کر دوسرے کی طرف کب توجہ کر سکتا ہے صفحہ ۶۳۰۔وہ بظاہر غیر کی طرف نظر رکھتا ہے لیکن دل یار کی طرف ہوتا ہے ہاتھ کام میں ہوتا ہے لیکن خیال محبوب کی طرف۔اپنے محبوب کی فرقت میں اس کا دل تڑپتا ہے اور یار کے ہجر میں سینہ زخمی رہتا ہے۔وہ محبوب کے چہرہ سے دور پڑا ہوا ہے مگر ہر وقت دل محبوب کے کوچہ میں دوڑ رہا ہوتا ہے۔کسی کے ابرو کی طرح غم کے مارے خمیدہ ہو گیا ہے اور کسی کی زلفوں کی طرح ہر وقت پیچ وتاب میں ہے۔اس کا دلبر جان مغز او رپوست میں رچ گیا۔اس کے دل کی راحت اس کے مکھڑے کی یاد میں ہے۔وہ اس کی جان بن گیا اور جان کب بھلائی جا سکتی ہے وہ ہر وقت آتا ہے اور اس سے بغل گیر ہوتا ہے۔دلبر مست پر جب نظر پڑتی ہے تو ہر چیز جو ہاتھ میں ہوتی ہے گر پڑتی ہے۔غیر اگر پہلو میں ہو پھر بھی دور ہے لیکن یار اگر دور بھی ہو تو ہر وقت پاس ہی ہے۔عاشقوں کا کاروبار ہی جدا ہے اور تو لوگوں کے فکر وقیاس سے بالاتر ہے۔یہ قوم بڑی ہوشیار ہے ان کا دل تو دلبر میں ہوتا ہے اور ظاہری آنکھیں درو دیوار کی طرف۔ان کی جان تو ایک حسین کے لئے تڑپتی ہے اور ان کی زبان پر اور وں کا ذکر ہوتا ہے۔فانی لوگوں کے لئے کوئی چیز بھی یار سے مانع نہیں۔بیوی اور بچے ان کے سر پر بوجھ نہیں ہوتے۔سینکڑوں بندھنوں کے باوجود ہر دم محبوب کے حضور میں رہتے ہیں اس کے ہمراہ ان کو کانٹے پھول اور اس کے بغیر پھول کانٹے معلوم ہوتے ہیں