براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 731
۔اُس بے مثل خدا کے انوار کا مظہر ہو- عقل میں ہر انسان سے زیادہ ہو۔اس کی پیروی دل کو اس قدر انشراح بخشے کہ کوئی سو سال جہاد کر کے بھی نہ پائے۔اس کی اتباع دل کو روشن کر دے اور نئی جان بخشے- اور خدائی طاقتوں کی تجلی دکھائے۔اُس کی پیروی سینہ کو نورانی کرے۔اور اُس مخفی دوست سے باخبر بنائے۔اُس کا کلام حقایق ومعارف سے بھرا ہوا ہو اور اُس کا ہر بیان بالکل موتی ہو۔اپنے حکمت کے کمال اور شریعت کی تکمیل کی وجہ سے اگلوں اور پچھلوں کا سردار ہو۔حسن وخوبی میں کامل ہونے کی وجہ سے تمام معشوقوں کی جگہ اُس کے قدموں میں ہو۔اُس کا پیرو نورانیت کی وجہ سے انبیاء کی طرح ہو جائے اُس کی روشنی دور ونزدیک سب پر پڑے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے سچائی کا ُپرہیبت شیر ہو۔دشمن اس کے سامنے ذلیل لومڑی کی طرح ہوں۔کیا ایسا شیر شہوت پرست ہوا کرتا ہے اے ذلیل وحقیر لومڑی ہوش میں آ۔اے ذلیل فطرت اندھے تو کیا ہے؟ اس کالے منہ کے ساتھ حسینوں پر طعنہ زنی کرتا ہے۔ان کا شوق نفس خدا کی رضا کی خاطر ہے وہ تیرے جیسے بے خبر لوگوں کی طرح شہوت کے قیدی نہیں ہوتے۔ُتو آپ غور کرلے کہ ایک شخص تو قیدی ہے اور دوسرا شخص شاہی داروغہ جیل ہے۔اگرچہ ان دونوں کی رہائش ایک ہی جگہ ہے لیکن دونوں کا فرق ظاہر ہے صفحہ ۶۲۹۔پاکوں کی باتوں کا بروں پر قیاس کرنا۔اے بد حواس یہ ناپاکوں کا کام ہے۔کامل لوگ جو دلبر کے شوق میں چلے جا رہے ہیں وہ دو سو بوجھ اٹھا کر بھی ہلکے پھلکے چلتے ہیں۔کمال تو یہ ہے کہ باوجود اولاد اور بیوی کے پھر بھی اہل وعیال سے الگ ہیں۔دنیا میں رہیں مگر اصل میں دنیا سے باہر ہوں کامل لوگوں کی یہی علامت ہے۔جب کوئی گھوڑا بوجھ لادنے سے سر کے بل گر پڑے مگر خالی چلنے میں بہت چالاک اور تیز رفتار ہو۔تو ایسا گھوڑا کس کام آسکتا ہے وہ تو نکما ہے اس کو گھوڑوں میں شمار مت کر۔گھوڑا تو وہ ہے جو کہ بھاری بوجھ کو بھی لے جاتا ہے اور خود بھی اچھی چال چلتا ہے