براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 728
۔کوئی <mark>کسی</mark> کے لئے سر نہیں دیتا نہ جان قربان <mark>کر</mark>تا ہے عشق ہی ہے کہ یہ کام پوری وفاداری سے <mark>کر</mark>اتا ہے صفحہ ۵۹۸۔میرے <mark>دل</mark>بر کو کوئی محبوب نہیں پہنچتا میرے معشوق کے شہر میں سورج اور چاند کی کوئی قدر نہیں۔ایسا چہرہ کہاں ہے <mark>جو</mark> اس کے منہ کی مانند آب وتاب رکھتا ہو اور ایسا باغ کہاں ہے <mark>جو</mark> میرے <mark>دل</mark>بر کی سی بہار رکھتا ہو صفحہ ۶۰۲۔اے حق پرست! آنکھ اور کان بند <mark>کر</mark> لے اور قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ کا خدائی حکم یاد <mark>کر</mark> صفحہ ۶۰۳۔اپنا <mark>دل</mark> اِدھر اُدھر کی چیزوں سے بالکل ہٹالے تاکہ تیرے <mark>دل</mark> پر حق ظاہر ہو جائے۔اس جہان کے معشوقوں کو لات مار تا کہ تیری جان کا محبوب تجھے اپنا منہ دکھائے۔<mark><mark>کامل</mark></mark> لوگ تو زمین کے نیچے بھی زندہ ہیں اور تو اس زندگی کے باو<mark>جو</mark>د قبر میں پڑا ہے۔بہت سال درکار ہیں کہ تو خون <mark>دل</mark> کھاتا رہے تب جا <mark>کر</mark> کہیں اس معشوق تک پہنچے گا۔آسانی سے راستہ کہاں کھل سکتا ہے؟ سینکڑوں دیوانگیاں چاہئیں تا کہ تجھے ہوش آئے صفحہ ۶۱۰۔یہ موت ہی تو ہے <mark>جو</mark> دوستوں سے دوستوں کا منہ چھ<mark>پا</mark> دیتی ہے اور ِفصل بہار کو یک دم خزاں میں تبدیل <mark>کر</mark> دیتی ہے صفحہ ۶۱۲۔قرآن <mark>پا</mark>ک خدا کی طرف سے ایک <mark>پا</mark>کیزہ درخت ہے <mark>جو</mark> نونہال اور نیک اصل والا اور سایہ دار اور پھلوں سے لدا ہوا ہے۔اگر تو میوہ چاہتا ہے تو میوہ دار درخت کے نیچے آ اگر عقلمند ہے تو بید کے درخت کو پھلوں کے لئے نہ ہلا۔اگر تجھے قرآن مجید کی <mark>خوبی</mark>وں پر یقین نہیں ہے تو اس محبوب کا حسن دیکھنے والوں سے پوچھ یا خود تحقیق <mark>کر</mark>۔لیکن <mark>جو</mark> شخص تحقیق کے لئے نہیں آیا اور دشمنی میں لگا ہوا ہے وہ ہرگز آدمی نہیں بلکہ گدھے سے بھی بدتر ہے صفحہ ۶۱۳۔اے خالق ارض وسما! مجھ پر در رحمت کھول تو میرے اس درد کو جانتا ہے جسے میں اور وں سے چھ<mark>پا</mark>تا ہوں