براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 722
۔جب تک خدا کی وحی نے مددنہ کی۔اور جب تک باد بہار خوشبو نہ لائی۔اس وقت تک عقل کو اس چمن کی خبر نہ تھی اور فکر کے پرندے کے پر جلے ہوئے تھے۔وہ باد بہار) وحی(یار کی طرف سے ایک خوشبو لائی یہاں تک کہ عقل بھی کام دینے لگی۔کئی دفعہ وہ محبوب خود پانی لایا۔یہاں تک کہ عقل کا درخت بار آور ہو گیا۔یہ تو عیش کا وقت اور خوشی کا موسم ہے ُتو کیوں ماتم اور سوگ میں پڑا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ سے ایک ایسی آندھی مانگ کہ تیرا کوڑا کرکٹ یکدم اڑ جائے صفحہ ۳۷۴۔سورج اور چاند کے متعلق کوئی شبہ نہیں ہوا کرتا ُتو اپنے محبوب سے آنکھیں مانگ۔ُ تو اس وقت تک گمراہ ہے جب تک کہ ُتو سرکش ہے جب سچے دل سے تلاش کرے گا تو اس کو پالے گا۔ُ تو حقیقت کا طالب ہی نہیں ہے اے کندئہ ناتراش یہی تو مشکل ہے۔خدا کے وجود پر اس کی صنعتوں سے استدلال کرنا صرف مجاز ہے نہ کہ سچا وصل۔اس کا وصل مجازی ذریعہ سے نہیں ہوا کرتا۔آنکھیں کھول یہ مذاق نہیں ہے۔اگر تو آگ پر دو سو جگر بھی کباب کرے تب بھی عقل سے کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔تجھے تو محبوب کی خبر بھی نہیں اور اندھا دھند بے ہودہ قدم مار رہا ہے۔وہ یقین جو خدا تجھے بخشتا ہے ویسا یقین تیری اپنی عقل تیرے پاس کب لا سکتی ہے۔ایک تو وہ ہے جس نے دلدار کے اپنے منہ سے نکتے اور اسرار سنے۔اور دوسرا وہ جو شک میں گرفتار ہے پس کس طرح یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔اے وہ شخص جو ظن اور گمان کی راہ پر مغرور ہے ُتو عقلمندنہیں بلکہ سخت دیوانہ ہے۔وہ خدا جو احسان کا سرچشمہ ہے ُتو اس کو عقلمندوں کا زیر احسان سمجھتا ہے۔یہ عجیب خدا تیرے دل میں سمایا ہوا ہے جو ایسا کمزور لاچار اور ُسست ہے۔کہ جب تک عقلمندوں کی طرف سے اسے مددنہ ملی تب تک وہ مخلوق کی طرف نہ آسکا۔عقل اس امر کو کس طرح تسلیم کر سکتی ہے کہ خدا نے انسان کے طفیل ساری شہرت حاصل کی ہے