براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 721 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 721

۔میں حیران ہوں کہ باوجود اس قدر نقص کے تو عقل پر کس وجہ سے نازاں ہے۔یہ کیسی عقل اور کیسی معرفت ہے خدا کا یہ کیسا قہر ہے کہ جس نے تیری آنکھیں بند کر دی ہیں۔تجھے یہ جہان عید کی طرح پسند آگیا اور خداوند کی سزا تجھے یادنہ رہی۔خدا کی وحی کو سن کہ کیا راز بیان کرتی ہے خدائے وَحدہٗ لاشریک کی طرف سے صفحہ ۳۷۳۔یعنی یہ سب عقلیں جو دانشمندوں کے دلوں میں ہیں یہ سب ہماری آ گ ایک چنگاری ہیں۔خدا کا کلام آسمان پر نہیں ہے تا کہ تو یہ کہے کہ ہماری پہنچ سے دور ہے۔یا تو کہے کہ کام بہت مشکل ہے میری کیا طاقت کہ آسمان پر جا سکوں۔اور نہ خدا کا کلام زمین کے نیچے ہے تا کہ تو کہے کہ میں وہاں کس طرح گھسوں۔اُسے میں زمین کی گہرائیوں میں سے کیونکر باہر نکالوں میں تو ایسی طاقت نہیں رکھتا۔خدائے قدوس نے تیرا عذر رفع کر دیا عرش کا نور زمین پر آگیا ہے۔اگر اُس خدائے واحد کا رحم تجھے کھینچ لے تو تیری خوش نصیبی اُس نور کی طرف تجھے لے جائے۔اللہ اللہ! کیسے کیسے انوار اس نے بکھیرے ہیں اس کلام میں تو اور ہی طرح کا فیضان ہے۔اس کے دیکھنے سے جہالت دور ہو جاتی ہے اور اس کی زیارت سے سینکڑوں مشکلیں حل ہو جاتی ہیں۔اس کی تلاوت نور کا پھل لاتی ہے ایک جہان اس کے احسانوں کے نیچے دبا ہوا ہے۔چشم بد دور یہ حسن کیسا عجیب ہے یہ تو گویا مصفّٰی پانی کا ایک چشمہ ہے۔جب سے جہان میں محبوبی کی رسم قائم ہوئی ہے کسی کے خیال میں بھی ایسا دلبر نہیں آیا۔وہ روشنی جو اس سے ظاہر ہوئی کسی نے اس دنیا میں سورج اور چاند میں بھی نہیں دیکھی۔کہاں تک تو ناقص عقل پر اتراتا رہے گا میں کیا کروں تا کہ تو آنکھیں کھولے۔تو اپنا نقص دیکھ اور خدا کا کمال دیکھ اپنی ذلت دیکھ اور خدا کا جلال دیکھ۔عقل کے ذریعہ سے خدائے بزرگ کا راستہ نہ کسی نے کبھی دیکھا اور نہ کبھی دیکھے گا۔ایسی جگہ جہاں جلنے کی ضرورت ہو وہاں محض قیاس سے کس طرح راستہ کھل سکتا ہے