براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 713
۔جب تک تیرے دل کی حالت موت کی حد تک نہ پہنچ جائے تب تک اس دلبر کا پیغام تجھ تک کیوں کر پہنچے گا۔جب تک تو خود روی سے الگ نہ ہو اور جب تک تو دوست پر فدا نہ ہو۔جب تک اپنی نفسانیت نہ چھوڑے اور جب تک خدا کے لئے دیوا نہ نہ ہو جائے۔جب تک تیری خاک غبار کی طرح نہ ہو جائے اور جب تک تیرے غبار سے خون نہ ٹپکنے لگے۔۔جب تک تیرا خون کسی کے لئے نہ بہے اور جب تک تیری جان کسی پر قربان نہ ہو۔۔اس وقت تک تجھے کس طرح کوئے جاناں میں راستہ دیں گے۔تو آپ ہی صدق وسوز سے غور کر لے۔یہ عقل تو اس راستے کی سواری نہیں ہے۔ہوش کر، ہوش کر، گمراہ نہ ہو۔فرمانبرداری کی اصلیت یہ ہے کہ اپنی خواہش جاتی رہے پس تو کہاں اور عشق کا راستہ کہاں۔ُتو تو) خدا سے(متکبر ہو کر بیٹھا ہے اور اپنے ایمان کو تکبر پر قربان کر دیا ہے۔یہ تیری عقل دانش اور سمجھ کیسی ہے کہ تو اس یکتا خدا کی ہمسری کرتا ہے۔تیرے نامعقول استادنے یہ تجھے کیا سکھایا ہے اور خدا کے قہر نے تیری دونوں آنکھیں کیونکر سی دی ہیں۔اپنی عقل کی وجہ سے تو نے یہ کیا غلطی کی؟ تو نے تو شراب کے مٹکے میں سے پہلا جام ہی تلچھٹ کا نکالا۔تیری ناقص عقل خدا کے برابر کس طرح ہو سکتی ہے ایک خاکی وجود اڑ کر آسمان تک کیونکر پہنچ سکتا ہے۔عقل جو خود صدہا سہوو خطا میں مبتلا ہے وہ اس خدائے پاک کا علم کہاں سے لائے صفحہ ۳۶۶۔افسوس کہ تو بھولنے والی عقل کی تعریف کرتا ہے یہ کیا سہو اور خطا کر رہا ہے تجھ پر افسوس!۔جو ہر قدم پر سو سو دفعہ لغزش کھاتی ہے وہ تجھے دریا میں سے کنارہ تک کیونکر پہنچا سکتی ہے۔یہ (عقل) تو سراب ہے اس کی طرف جانے میں جلدی نہ کر جو دور سے پانی کا چشمہ نظر آتی ہے۔تیری کشتی شکستہ اور خراب ہے پھر بھنور کے چکر میں بھی پڑ گئی ہے۔ایسی کشتی پر فخر نہ کر۔اے ذلیل انسان اس بدصورتی کے باوجود مٹک کر نہ چل۔قیاس کی راہ سے تو یقین تک نہیں پہنچے گا اس کی تو سب بنیاد شک اور وہم پرہے۔اگر غور وفکر کرتے کرتے تو پگھل بھی جائے تب بھی ناممکن ہے کہ صاحب اسرار ہو جائے