براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 712 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 712

۔جو اُس بے مثل ذات سے غافل ہے وہ عقلمندنہیں بلکہ سخت دیوانہ ہے۔تو کب تک دوست سے روگردان رہے گا۔کسی اور کا پتہ بتا جو اُس جیسا ہو۔دونوں جہان میں یار کی نظیر نہیں ملتی۔اُس کے عاشقوں کو غیر سے کیا کام۔جب دل میں عشق کی آگ بھڑکی تو محبوب رہ گیا اور اُس کے سوا سب کچھ جل گیا۔لیکن یہ خدا کی بخشش ہے جب تک اُدھر سے مہربانی نہ ہو۔اپنی کوشش سے یہ بات نہیں ملتی۔یہ مقام خدا کی طرف سے ان لوگوں کو عطا ہوتا ہے جو خودی کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے احکام کے ماتحت چلتے ہیں اور اس کے فرمانوں سے باہر نہیں ہوتے۔اور لوگوں کو یہ مقام نہیں ملتا اگر ملتا ہے تو ثبوت پیش کر۔غیر میں وہ وفا اور محبت کہاں ہو سکتی ہے۔عقلمندوں کا انتہائی مقام زُ ِہد خشک ہے۔وہ عقلمند جو اپنی عقل پر نازاں ہیں دراصل وہ حقیقت اور (خدائی) رازوں سے بے خبر ہیں۔انہوں نے قبروں کی طرح اپنے ظاہر کو سفید کر رکھا ہے اور باطن طرح طرح کی گندگیوں سے بھرا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کو ایک پتھر کی طرح سمجھ رکھا ہے جو بولنے سے عاجز اور گفتار سے محروم ہے۔وہ خدا جو حی وقیوم ہے ان کے نزدیک ایک وہمی وجود ہے صفحہ ۳۶۵۔وہ حفیظ وقدیر اور بندوں کا رب ان کے نزدیک جمادات کی طرح بے جان پڑا ہے۔خود پسند اور اپنی عقل کے اسیر ہیں اور خدائے علیم وقدیر سے بیگانہ ہیں۔وہ شخص جوخود پسند اور متکبر ہے خدائے پاک اسے کہاں یاد ہے۔عاشقوں کی عادت تو عجزو نیاز ہے ہم نے کبھی عشق اور تکبر کو ساتھ ساتھ نہیں پایا۔اگر تو اس سیدھے راستے کے سوار کی تلاش میں ہے تو وہاں ڈھونڈ جہاں گرد اڑ رہی ہے۔اسے ایسی جگہ ڈھونڈ جہاں زور نہیں رہا، شیخی نہیں رہی، تکبر اور شور نہیں رہا۔اس دنیا کے لوگ فانی لوگوں کو نہیں پہنچ سکتے اور زبانی مدعی سچے عاشقوں کو نہیں پہنچ سکتے۔تمام خلق اور جہاں شورو شر میں مبتلا ہے لیکن عاشق ایک اور ہی عالم میں ہیں