براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 707
۔کب تک تو اپنے خدا سے دشمنی اور کینہ رکھے گا اور دین سے تیری ہنسی ٹھٹھا کب تک جاری رہے گا۔بے شرم بن کر اپنے آپ کو ہلاک نہ کر اور تمسخر کر کے خود رونے کا مقام نہ بن۔جب آسمان پر چمکتا ہوا سورج نکل آیا پھر ُتو کس طرح اسے مٹی اور گھاس سے چھپا سکتا ہے۔رات کے وقت تو سَو فریب چھپ سکتے ہیں لیکن روزِ روشن میں ایسا ممکن نہیں۔قرآن کا نور ایسا نہیں چمکتا کہ دیکھنے والوں کی نظر سے مخفی رہ سکے۔وہ تو تمام دنیا کے لئے ہدایت کا چراغ ہے اور جہان بھر کے لئے رہبر اور رہنما۔وہ خدا کی طرف سے دنیا کے لئے ایک رحمت ہے اور آسمان سے اہل جہان کے لئے ایک نعمت۔وہ خداوند کے اسرار کا خزانہ ہے اور خدا کی طرف سے خدا شناسی کا آلہ صفحہ ۳۶۰۔وہ اپنے کمالات میں انسان کے مرتبہ سے بالاتر ہے اور قیاس اور استدلال کی دستگیری کرتا ہے۔وہ علم وعمل میں ہمارے لیے کامل کار ساز ہے اس کی دلیل پختہ اور اس کا اثر نہایت کامل ہے۔جو اس کی عظمت کو دیکھ لیتا ہے اسے فوراً خدا یاد آجاتا ہے۔اور جو تکبر اور دشمنی سے اُس روشنی کو نہیں دیکھتاوہ اندھا اور خدا کے نور سے دور رہتا ہے۔واہ وا ! اس خدا کی طرف سے اس کے پاس کیسے کیسے اسرار ہیں میرے جان ودل ان اسرار پر قربان ہوں۔وہ اُس پاک ذات کے جلالی انوار سے پُر ہے چمکدار سورج بھی اس کے سامنے خاک ہے۔مرحبا ! وہ کیا کیا خزانے اسرار الٰہی کے رکھتا ہے میرے جان ودل ان انوار پر قربان ہوں۔قرآن خدا کے چہرہ کا آئینہ ہے اور اُس نے ایک جہان کو خدا کی طرف کھینچا ہے۔گونگے اس کی وجہ سے فصیح بن گئے اور بدشکل آدمی اُس کے سبب سے خوبصورت ہو گئے۔انہوں نے باغ فنا کا پھل کھایا اور اپنی نفسانیت اور خواہشات کی طرف سے مر گئے۔ایک غیبی ہاتھ نے ان کے دل کا دامن کھینچا اور یار کی کشش نے دلدل سے ان کا پیر نکال لیا۔یہ کلامِ الٰہی کی کشش ہی تو تھی جس نے ان کے دلوں کو دنیا کی طرف سے ہٹا دیا۔ان کے سینہ کو غیر اللہ سے خالی کر دیااور اس یگانہ کی محبت کی شراب سے بھر دیا