براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 706 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 706

۔رحمان کے فضل کی بارش ایسے شخص کی پیشوائی کو آتی ہے بدقسمت وہ ہے جو اسے چھوڑ کر دوسری طرف بھاگا۔بدی کی طرف رغبت ایک شیطانی رگ ہے میں تو اُسے بشر سمجھتا ہوں جو ہر شر سے نجات پائے۔اے کان حسن! میں جانتا ہوں کہ تو کس سے تعلق رکھتی ہیتو تو اس خدا کا نور ہے جس نے یہ مخلوقات پیدا کی۔مجھے کسی سے تعلق نہ رہا اب تو ہی میرا محبوب ہے کیونکہ اس خدائے فریاد رس کی طرف سے تیرا نور ہم کو پہنچا ہے صفحہ۳۱۵۔اے (عرب) کے بدو ! مجھے خدشہ ہے کہ تو کس طرح کعبہ تک پہنچے گا کیونکہ جس راستہ پر تو چل رہا ہے وہ تو ترکستان کو جاتا ہے صفحہ ۳۱۶۔اے ظالم عذر کرنا عاشقوں کا شیوہ نہیں، تو فضول چندنیک نام لوگوں (عاشقوں ) کو بدنام کررہا ہے صفحہ ۳۳۵۔خدا کی وحی سے صبح صداقت روشن ہو گئی جس آنکھ نے یہ صحف پاک نہیں دیکھے اس نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔ہمارا دل اس نافہ سے معطر ہے اور وہ یار جو ہم سے بھاگا ہوا تھا پھر آگیا۔وہ آنکھ جس نے قرآن سے نور اخذ نہیں کیا خدا کی قسم! وہ ساری عمر اندھے پن سے خلاصی نہ پائے گی۔وہ دل جس نے اسے چھوڑ کرگلِ گلزارِ خدا ڈھونڈا۔خدا کی قسم کہ اس شخص نے اس کی خوشبو بھی نہیں سونگھی۔میں سورج سے اس نور کو تشبیہ نہیں دے سکتا کیونکہ دیکھتا ہوں کہ اس کے گرد سینکڑوں آفتاب حلقہ باندھے کھڑے ہیں۔وہ لوگ بدقسمت اور بدنصیب ہیں جنہوں نے اس نور سے تکبر کی وجہ سے روگردانی کی اور تعلق توڑ لیا صفحہ ۳۵۹۔اے وہ جس نے قرآن کی طرف سے منہ پھیر لیا ہے اور سر کشی کے گڑھے میں پاؤں رکھا ہے۔نور ہدایت کے سامنے اتنی شیخی نہ مار اور تمسخر اور کھیل سے توبہ کر۔یہ آنکھ کیسی اندھی اور منحوس ہے جس میں آفتاب ذرہ کے برابر نظر آتا ہے۔جب تک تو اس طریقہ اور عادت کو نہیں چھوڑتا تب تک تیری کشتی کنارے سے دور رہے گی