براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 705 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 705

۔پاک دل اور غور وفکر کی تیزی یہ دو باتیں لازم وملزوم ہیں۔جب لوگ پاکیزگی ء دل کا صوف دل) کی دوات(میں ڈال لیتے ہیں تو آنکھوں کی سیاہی کی روشنائی اس میں ڈالتے ہیں۔خدا نے تجھے خاک کی ایک مٹھی سے پیدا کیا اور خود ہی تجھے روٹی دی تا کہ تو ہلاک نہ ہو جائے۔تیری ہر ضرورت کا وہ خود متکفل ہوا اور رحم کر کے اپنی سخاوت کے ہاتھ تیرے لئے کھول دئیے۔پھر اس کی عطا کا بدلہ کیا تو یہی دے رہا ہے کہ علم میں خود اُس کا ہمسر بنا پھرتا ہے۔کیا تو خدا کے ساتھ اپنے تئیں برابر سمجھتا ہے ایسی عقل سمجھ اور رائے پر ہزار افسوس۔جب خدا کسی دل کو قعر ذلت میں گراتا ہے تو پھر ہم اُس کو اپنی کوشش سے بلندنہیں کر سکتے۔ہم تو صرف) سمجھانے کی(کوشش کرتے ہیں مگر نتیجہ وہی ہوتا ہے جو خدا کی مرضی اور رائے میں ہو صفحہ ۲۹۷۔میں نے تیرے آگے اپنے دل کا غم مختصر طور پر بیان کیا ہے تا کہ تو کہیں دل آزردہ نہ ہوجائے ورنہ باتیں تو بہت ہیں صفحہ ۳۰۴۔قرآن کے پاک نور سے روشن صبح نمودار ہو گئی اور دلوں کے غنچوں پر باد صبا چلنے لگی۔ایسی روشنی اور چمک تو دوپہر کے سورج میں بھی نہیں اور ایسی کشش اور حسن تو کسی چاندنی میں بھی نہیں۔یوسف تو ایک کنوئیں کی تہ میں اکیلا محبوس رہا مگر اِس یوسف نے بہت سے لوگوں کو کنوئیں میں سے نکالا ہے صفحہ ۳۰۵۔منبع حقائق سے یہ سینکڑوں حقائق اپنے ہمرا ہ لایا ہے۔ہلالِ نازک کی کمر ان حقائق سے جھک گئی ہے۔تجھے کیا پتہ کہ اس کے علوم کی حقیقت کس شان کی ہے؟ وہ آسمانی شہد ہے جو خدا کی وحی سے ٹپکا ہے۔یہ سچائی کا سورج جب اس دنیا میں ظاہر ہوا تو رات کے پجاری اُ ّلو اپنے اپنے کونوں میں جا گھسے۔دنیا میں کسی کو یقین کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوتا مگر اسی شخص کو جو اس کے منہ سے محبت رکھتا ہے۔جو اس کا عالم ہو گیا وہ خود معرفت کا خزانہ بن گیا اور جس نے اس عالم کونہیں دیکھا اسے دنیا کی کچھ خبر ہی نہیں