براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 704
۔سیوتی اور فصل بہار کے پھولوں سے مہکتی ہوئی ہوا خوشبو اڑاتی ہوئی چل رہی ہے۔(لیکن) اے بے وقوف تو خزاں میں پڑا ہوا ہے اور مفلسوں کی طرح تیرے سب پتے جھڑ گئے ہیں۔قرآن پر دشمنی سے کیوں حملہ کرتا ہے تو شاید قرآن میں سوائے بھلائی کے کچھ نہیں پائے گا۔اگر جہان میں یہ کلام نہ آتاتو دنیا میں توحید کا نام بھی باقی نہ رہتا۔دنیا تاریک وتار ہوتی۔اس کی وجہ سے ہر ملک روشن ہو گیا۔اس کی وجہ سے توحید کا راستہ ظاہر ہو گیااور تجھے بھی پتہ لگ گیا کہ خدا ہے۔نہیں تو پھر اپنے ہی بزرگوں کا حال دیکھ لے اور انصاف کے ساتھ ان کے دین ومذہب پر نظر ڈال۔وہ شخص ذلیل اور بداصل ہوتا ہے جو اپنے محسن سے بغاوت کرے۔تو اپنی بساط سے زیادہ نہ اُڑ۔اگر تجھے علم نہیں ہے تو طبابت نہ کر صفحہ ۲۳۰۔یقین کر کہ یہ مذہب خدا کی طرف سے ہے اور انسانی تدبیر کا اس میں کوئی دخل نہیں۔یہ دین اسلام خدا کے فضل سے معزز ہے۔فریب، چرب زبانی اور پھانسنا اس کا کام نہیں۔اس میں آفتاب کی طرح کا نور چمکتا ہے چونکہ تو اندھا ہے اس لئے وہ تجھے دکھائی نہیں دیتا۔اپنی گندہ دلی کی وجہ سے تو اس سے بدگمان نہ ہو۔ہاں اگر کوئی دلیل ہے تو پیش کر۔دلی شوق سے اس کے ساتھ تعلق پیدا کر پھر خدائے کار ساز کی قدرت دیکھ۔ُتو اپنی قوم میں سے ایک مجلس کا انتخاب کرتا کہ وہ سب مل کر ہم سے ایک فیصلہ کر لیں۔ہم پر خدا ئے پاک کا احسان ہے۔ہم باطل پرستوں سے نہیں ڈرا کرتے۔خدائے واحد کا فیضان میرے دل میں جوش پر ہے تا کہ میں ہر طالب کی زنجیروں کو توڑ دوں۔خدا تعالیٰ کے لطف کے دروازے کھلے ہیں اور مہربانیوں کی ہوا چل رہی ہے۔جو شخص عدل وانصاف سے رو گردانی کرتا ہے وہ حق اور راستی کے سامنے کب دم مار سکتا ہے۔خدا کا کلام ہر وقت بڑے جاہ وجلال کے ساتھ اس کے بے شرم منہ کو کالا کرتا رہتا ہے۔اس شخص کی رائے کیونکر قابل عزت ہو گی جس کو اس کے اپنے نفس کے جوش نے پچھاڑ رکھا ہو