براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 701
۔اگر عقل (کبھی) کوئی عمدہ رائے دیتی بھی ہے تو وہ اس کی اپنی خوبی نہیں بلکہ وہیں سے لاتی ہے۔تو اپنی عقل پر نازاں ہو کر سخت متکبر ہو گیا ہے اور ہم اس پر فدا ہیں جس نے خود عقل کو پیدا کیا۔تیری جان خالی خولی قیاسوں میں گرفتار ہے مگر ہماری جان اس بینا خدا کے علم پر قربان ہے۔نیک دل انسان نیکوں سے تعلق رکھتا ہے اور بدگوہر آدمی موتی پر تھوکتا ہے۔ان بھیدوں پر اور بھید چھائے ہوئے ہیں۔عقل وفکر کا گدھا کہاں تک دوڑے گا۔حرص کی شدت سے یہ ٹمٹماتا ہوا چراغ کس طرح تجھے باریک راہ دکھا سکتا ہے؟۔خدا کی وحی تجھے راستے سے آگاہ کرتی ہے اور منزل پر پہنچنے تک نور کو تیرے ساتھ کر دیتی ہے صفحہ ۱۷۷۔ہمارے جسم اور جان میں کوئی ہنر نہیں ہے اس لاشریک کے مقابلہ پر دم مارنا حماقت ہے۔دین کیا ہے؟ اپنے تئیں فنا سمجھنااور اپنی ہستی سے بالکل الگ ہو جانا۔جب تو گر پڑتا ہے اور چیختا اور چلاتا ہے تو کوئی نہ کوئی ضرور اٹھتا ہے تا کہ تیرا ہاتھ پکڑے۔نادان کے لئے دانا کا دل تڑپتا ہے اور آنکھوں والا اندھے پر رحم کرتا ہے۔قانون قدرت اسی طرح واقع ہوا ہے کہ طاقتور کمزوروں کا دھیان رکھتے ہیں۔تو رحمان اس قانون سے باہر کیوں کر رہ سکتا ہے خدا کا رحم تو سب سے زیادہ ہونا چاہیے۔وہ خدا جس نے ہمارے سب بوجھ اٹھا رکھے ہیں اور کسی رحمت کی ہمارے لئے کمی نہیں رکھی۔وہ دین کے معاملے میں ہم سے کیوں کر غافل ہو گا تجھے اس انکار اور بغض سے شرم آنی چاہیے۔بے وفا دنیا سے دل مت لگا۔کبھی تو خدا تعالیٰ کی وفاداریاں بھی یاد کر۔تجھ پر بارہا ثابت ہو چکا ہے کہ یہ عقلیں بھول چوک میں مبتلا رہتی ہیں۔بارہا تو نے اپنی عقل کی خرابی دیکھی ہے اور بارہا تو اس عقل کی وجہ سے نامراد رہا ہے۔پھر بھی تو اپنی عقل پر فخر کرتا ہے اور بے سوچے سمجھے دلیری کے ساتھ آگے بڑھا جاتا ہے۔اپنے نفس کو ہر غیر ضروری چیز سے پاک کر اور بے نفسی اختیار کرتا کہ خدا کی رحمت نازل ہو۔لیکن نفس کو ترک کرنا کون سا آسان کام ہے۔مرنا اور نفس کو مارنا دونوں برابر ہیں