براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 694
صفحہ ۱۶۰۔قرآن مجید علم اور دین کا سورج ہے اور وہ تجھے شک سے یقین کی طرف لے جائے گا۔قرآن خدا کی مضبوط رسی ہے اور وہ تجھے ربّ العالمین کی طرف کھینچ کر لے جائے گی۔قرآن خدا کی طرف سے ایک روشن دن ہے تا کہ تجھے) روحانی(آنکھوں کی روشنی بخشے۔خدا نے اس بے نظیر کلام کو اس لئے بھیجا ہے تا کہ تو اس پاک اور ذوالجلال کی درگاہ میں پہنچ جائے۔خدا تعالیٰ کا الہام شک کی دوا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی کامل قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔جس نے قرآن سے رو گردانی اختیار کی اُس نے یقین کا منہ ہرگز نہیں دیکھا۔تو خودرائی کی وجہ سے اپنی جان کو ہلاک کرتا ہے مگر پھر بھی ویسا ہی احمق اور گمراہ رہتا ہے۔کاش تیرا دل معرفت الٰہی حاصل کرنے کی رغبت رکھتا کاش تیری کوشش سچائی کا بیج بوتی۔تو آپ انصاف وعدل سے غور کر کہ گمان کس طرح یقین کا کام دے سکتا ہے!۔جس کا دروازہ خدا کی طرف کھل گیا وہ یقین کی وجہ سے کھلا ہے نہ کہ شبہات کی وجہ سے۔اے غدار!تو قرآن کی قدر کو نہیں جانتا تجھے کیا پتہ کہ اس جیسا تیرا کوئی اور مونس نہیں۔قرآن کی وحی مُردوں میں جان ڈالتی ہے اور معرفت الٰہی کی سینکڑوں باتیں بتاتی ہے۔اور یقینی علوم کا ایساجہان دکھاتی ہے جو کوئی سو جہانوں میں بھی نہیں دیکھ سکتا صفحہ ۱۶۲۔اے وہ شخص جو الہام کا منکر ہے تیری سمجھ نے تو عقل ودانش کو بھی بدنام کر دیا۔خدا کو چھوڑ کر تو نفس پرستی میں مبتلا ہوگیا۔بھلا یہ کونسا مذہب اور طریقہ ہے۔جب تک کوئی شخص تکبر کو نہیں چھوڑتا تب تک وہ توحید کا راز کس طرح پا سکتا ہے۔جب تک تو اپنے نفس کو کچل نہیں دیتا تب تک پاک اور ناپاک میں کس طرح فرق کر سکتا ہے۔جو شخص خدا کے کلام کا فرمانبردار ہو گیاوہ حرص وہوا کی پیروی سے آزاد ہو گیا۔اپنے آپ اور اپنے نفس سے اُس نے رہائی پائی اور نور خداوندی کے فیض کا مظہر بن گیا۔وہ اِس دنیا کے رنگ سے اونچا ہو گیا اور ایسا بن گیا کہ اُس کا درجہ خیال میں بھی نہیں آسکتا