براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 691 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 691

۔یہ پکی بات ہے کہ خدا کی رضا کا طالب خدا کے لئے ہر ایک سے قطع تعلق کر لیتا ہے صفحہ ۱۲۶۔اُس کا مذہب تو یار پر قربان ہو جانا اور خدا کے لئے اپنی جان سے جدا ہونا ہے۔خدا کی رضا میں خاک ہو جانا اور نیستی اور فنا اور ہلاکت کا طالب ہونا۔جو یار کی مرضی ہو اُس پر راضی ہونا اور جاری شدہ قضا وقدر پر صبر کرنا۔تو خدا کے ساتھ اور وں کو بھی چاہتا ہے بس یہی خیال گمراہی کی جڑ ہے۔اگر تجھ میں عقل اور دلیری ہو تو ُتو صرف خدا ہی کی طرف متوجہ رہے۔درحقیقت محبوب ایک ہی کافی ہے کیونکہ دل بھی ایک ہوتا ہے اور جان بھی ایک اس لئے محبوب بھی ایک ہونا چاہیے۔جو ایک ہی ہستی کا عاشق ہو گا جان دینا اس کے لئے معمولی بات ہو گی۔اُس کا کوچہ اُسے باغ سے زیادہ اچھا لگتا ہے اور اُس کا منہ پھول سے زیادہ اسے پسند ہوتا ہے۔معشوق جو بھی سلوک اس کے ساتھ کرے وہی بہتر ہوتا ہے اپنے دلبر کا دیکھنا اُسے سو جان سے بڑھ کر ہوتا ہے۔اپنے دلدار کے سامنے پا بہ زنجیر ہونا اس کے لئے اس جدائی سے بہتر ہے جس میں گلزار کی سیر ہو۔جس شخص کا ایک ہی دل آرام ہے تو اُسے سوائے اُس کے وصل کے آرام ہی نہیں آتا۔رات بھر وہ دوست کی جدائی میں بستر پر تڑپتا ہے سب دنیا سوتی ہے وہ جاگ رہا ہوتا ہے۔جب تک اُسے نہ دیکھ لے اُسے صبر نہیں آتا ہر لحظہ محبت کا سیلاب اُسے بہائے لئے جاتا ہے۔عاشقوں کے دل کو بھلا آرام کہاں۔یار کے دیدار سے توبہ کرنا چہ معنی دارد۔محبوب کے حسن نے اُن کے دل کے کان میں ایک ایسا راز کہہ دیا ہے جو بیان نہیں ہو سکتا۔عاشقوں کی سیرت ایسی ہوا کرتی ہے کہ وہ خدا کے ساتھ سچائی کا معاملہ رکھتے ہیں۔اُن کی جان سچائی کی شمع سے روشن ہوتی ہے اور نورِ حق اُن کی پیشانی سے پھوٹ پھوٹ کر نکلتا ہے۔یہ بامراد ہیں مگر دنیا سے نامراد بہت عقلمند ہیں کیونکہ دنیا کے جال سے اُڑ کر دور چلے گئے ہیں۔اپنے آپ سے اور اپنے نفس سے رہائی پا گئے اور خاص نور کے فیضان کا مقام بن گئے۔اپنے خدا سے دل لگا لیا اور ماسوا اللہ سے دل چھڑا لیا