براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 690
۔حرص، لالچ اور طمع کا یہ سب طوفان اُسی وقت تک ہے جب تک کہ آدمی اندھا ہے۔لیکن جب دل کی آنکھ تھوڑی سی بھی کھل جائے تو آدمی کی تمام حرص ٹھنڈی پڑ جاتی ہے صفحہ ۱۲۵۔اے وہ کہ جس نے لالچ کی رسیاں لمبی کر رکھی ہیں کیوں تو ان ہوس پرستیوں سے باز نہیں آتا۔عمر کی دولت ہر گھڑی گھاٹے میں ہے لیکن تو مال ودولت کی فکر میں پریشان ہے۔رشتہ دار، قوم اور کنبہ سب دھوکے باز ہیں لیکن تو نے ان کی خاطر خدا سے تعلق توڑ رکھا ہے۔ان سب کا ارادہ تیرے قتل کرنے کا ہے کبھی تو یہ صلح سے مارتے ہیں اور کبھی لڑکر۔اس رشتہ پر لعنت ہے جو تیرے پیوند کو تیرے دلی دوست سے تڑ وائے۔آخر اُسی خدا سے تجھے کام پڑے گا) ورنہ(نہ تو تُو کسی کا یار ہے اور نہ کوئی تیرا یار ہے۔اپنا قدم نہایت خوف کے ساتھ رکھ تا کہ تو اس دنیا سے صدق قدم کے ساتھ جائے۔تا کہ خدا تجھے اپنا دوست بنا لے اور تجھ پر مہربانی کی نظر ڈالے۔اور تو عشق کی شراب پئے اور اس شراب سے مست اور مدہوش پڑا رہے۔یہ جگہ ہمیشہ رہنے کا مقام نہیں ہے۔خبردار ہو جا تا خاتمہ ُبرا نہ ہو۔اُس زندہ کی محبت تیرے نور کو بڑھائے گی۔ان مُردوں کی محبت بھلا کس کام آئے گی۔کھانا، معدہ، سر اور دستار سب کی سب خدا کی بخششیں ہیں۔خالق کا حق پہچان اور شرم کر اس سے پہلے کہ تو دنیا سے رخصت ہو۔کیوں تو اُس سے منہ پھیرتا ہے۔کتا بھی وفا کرتا ہے تُوتو آدمی ہے۔قدرت والے خدائے برتر سے خوف چاہیے جو زیادہ خدا شناس ہے وہی زیادہ ڈرتا ہے۔بدکار لوگ ُبرے کاموں میں مشغول ہیں عارف لوگ دعا اور زاری میں مصروف ہیں۔ٹھنڈی رہے وہ آنکھ جو اُس کے لئے روتی ہے مبارک ہے وہ دل جو اُس کے لئے جلتا ہے۔با برکت ہے وہ جو اُس کا طالب ہے اور عمر وزید کے خیال سے الگ ہو کر اس کے حضور میں رہتا ہے۔جو بھی خدائے واحد کا راستہ اختیار کرے گا اُس کا وہ خدا (اس کے لئے) دونوں جہانوں میں کافی ہے