براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 685
۔اور جو دشمنی اور نفرت سے جلتا ہے وہ نفس دنی کے لئے کمزور شکار ہے۔ہزار درجے اچھی کینہ پرور کی آنکھ سے بیوقوف، اندھے اور کانے کی آنکھ ہے۔عداوت اور تعصب پر لعنت بھیج اور کینہ وروں کے سر پر دھول ڈال۔پابندیِ حق کے سوا کوئی دوسرا ہنر خدائے بزرگ سے نہیں ملاتا۔ہم تو سب پیغمبروں کے غلام ہیں اور خاک کی طرح ان کے دروازہ پر پڑے ہیں۔ہر رسول نے یقینا خد اکا راستہ دکھایا مگر ہماری جان تو اس راستباز پر قربان ہے۔اے میرے خدا ! ان انبیاء کے گروہ کے طفیل جن کو تو نے بڑے بھاری فضلوں کے ساتھ بھیجا ہے۔مجھے معرفت عطا فرما جیسے تو نے دل دیا ہے۔شراب بھی عطا کر جبکہ تو نے جام دیا ہے۔اے میرے خدا ! مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر جس کا تو ہر جگہ مددگار رہا ہے۔اپنے ُلطف وکرم سے میرا ہاتھ پکڑ اور میرے کاموں میں میرا دوست اور مددگار بن جا۔میں تیری قوت پر بھروسہ رکھتا ہوں اگرچہ میں خاک کی طرح ہوں بلکہ اُس سے بھی کم تر صفحہ ۵۵۔پروانہ کی جب موت آتی ہے تو وہ شمع سوزاں پر شوخی وناز سے گرتا ہے صفحہ ۶۳۔انسان کو لوگوں سے بھلائی کی امید ہوتی ہے مجھے تجھ سے بھلائی کی امیدنہیں میرے ساتھ برائی بھی تو نہ کر صفحہ ۷۰۔میری پناہ ہر آن وہ طاقتور ہستی ہے تو مجھے ناتوانوں کے بخل سے مت ڈرا صفحہ ۷۳۔وہ درد جو میں طالبان حق کے لئے اپنے دل میں رکھتا ہوں میں اُس درد کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔۔میری جان ودل اُن لوگوں کی فکر میں اس قدر مستغرق ہے کہ مجھے نہ اپنے دل کی خبر ہے نہ اپنی جان کا ہوش ہے۔میں تو اس بات پر خوش ہوں کہ مخلوق کا غم رکھتا ہوں اور اس کے باعث میرے دل سے جو آہ نکلتی ہے اس میں مگن ہوں