براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 683 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 683

۔نیز اُن کے خوبصورت چہرے سے زیادہ کوئی چہرہ اُس کی طبیعت اور دل کو پسندنہیں آیا۔اس لئے ازل سے ابد تک اُس کا مقام اسی ملک میں رہا اور رہے گا۔کوئی دوسرا ملک خواہ گمراہی میں مر جائے لیکن وہ کبھی اس کو نہیں پوچھتا۔صرف ایک چھوٹی سی قوم کو کتاب دے دی اور لاکھوں گروہوں کو اُس نے چھوڑ دیا۔جب ازل میں اُس نے خلقت کے درمیان نیکی اور بدی کو تقسیم کیا۔تو راستی ان لوگوں کے حصہ میں آئی اور دوسروں کی قسمت میں جھوٹ ہی آیا۔اُن کا قول یہ ہے کہ ان کے سوا اور وں میں سینکڑوں جھوٹے اور مکار آئے ہیں۔اور ان کے پاس ایک بھی ایسا نہیں آیا جو خد اکی طرف سے دین کی اشاعت کرنے والا ہوتا۔اور اُن کو خدا کا راستہ دکھاتا اور ہر جھوٹے کا جھوٹ کھول کر رکھ دیتا۔تا کہ منصف خدا کی حجت پوری ہو جاتی ہر مسلمان اور ہر عیسائی پر۔الغرض اُن کے نزدیک خدا تعالیٰ ہر بڑے ظالم سے بھی زیادہ ظالم ہے۔کیونکہ وہ ایک جہان کو گمراہی کی حالت میں ہر مکار کے پنجہ میں گرفتار چھوڑ دیتا ہے۔اور وہ خود کسی عاشق کی طرح صرف ایک ہی قوم سے ہمیشہ محبت اور تعلق رکھتا ہے۔اس قوم کی اس قسم کی احمقانہ رائے ہے، دوسری حماقت یہ کہ اس احمقانہ رائے پر فخر کرتی ہے۔آخر کار اس ُبری رائے اور ُبرے خیال نے ان کو عجیب طرح کا اندھا اور بہرہ بنا دیا۔انہوں نے سو چشموں سے تو اپنی آنکھ بند کر لی اور ایک کھرلی پر گر پڑے۔انہوں نے نبیوں سے سخت دشمنی اختیار کی، ایسے ہر متکبر کی دشمنی سے خدا کی پناہ صفحہ ۲۲۔پاکبازوں سے جس قدر ان کی دشمنی ثابت ہے اتنی دشمنی کی تو کوئی شیطانوں سے بھی امیدنہیں رکھتا۔گدھا بے وقوفی میں بے مثل ہے لیکن ان کے ایک ایک بال میں سو سو گدھے ہیں۔نہ تو اُن کوتحقیق اور ثبوت سے کوئی غرض ہے نہ وہ سچے دل سے کشتی پر چڑھتے ہیں۔نہ وہ دوا کو اُس کے اثر سے شناخت کرتے ہیں نہ وہ درخت کو اُس کے پھل سے پہچانتے ہیں