براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 682 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 682

۔اُسے کسی کی تعریف کی کیا حاجت ہے اُس کی مدح ہرمدحت گر کے لئے باعثِ فخر ہے۔وہ پاکیزگی اور جلال کے گلستان میں متمکن ہے اور تعریف کرنے والوں کے وہم سے بالاتر ہے۔اے خدا ہمارا سلام اُس تک پہنچا دے نیز اُس کے بھائی ہر پیغمبرؑ پر۔ہر رسول سچائی کا سورج تھا۔ہر رسول نہایت روشن آفتاب تھا۔ہر رسول دین کو پناہ دینے والا سایہ تھا اور ہر رسول ایک پھلدار باغ تھا۔اگر یہ پاک جماعت دنیا میں نہ آتی تو دین کا کام بالکل ابتر رہ جاتا۔جو ان کی بعثت کا شکر بجا نہیں لاتا وہ حق تعالیٰ کی نعمتوں کا منکر ہے۔وہ سب ایک سیپی کے سوموتی ہیں جو ذات اور اصل اور چمک میں یکساں ہیں۔ایسی کوئی امت بھی دنیا میں نہیں ہوئی جس میں کسی وقت ڈرانے والا نہ آیا ہو۔اُن میں پہلا آدمؑ اور آخری احمدؐ ہے۔مبارک وہ جو آخری کو دیکھ پائے۔تمام نبی روشن فطرت رکھنے والے ہیں مگر احمدؐ ان سب سے زیادہ روشن ہے۔وہ سب معرفت کی کان تھے اور ہر ایک مولیٰ کے راستے کی خبر دینے والا تھا۔جس کسی کو توحید حق کا کچھ علم ہے اس کے علم کی اصل کسی پیغمبر سے ہے۔وہ علم اُسے ان کی تعلیم سے ہی پہنچا ہے خواہ اب وہ تکبر سے منکر ہو جائے۔ایک گمراہ اور ناپاک قوم ایسی بھی ہے جو ان پاک لوگوں کا انکار کرتی ہے۔ان کی آنکھوں نے حق کا منہ کبھی نہیں دیکھا اس لئے اس بحث میں انہوں نے دفتر سیاہ کر ڈالے۔اُن کی قسمت کی بدبختی کو دیکھ کہ اپنی آنکھ پر فخر کرتے ہیں اور سورج سے بھاگتے ہیں صفحہ ۲۱۔اگر آنکھ آفتاب سے بے نیاز ہوتی تو کوئی بھی چمگاڈر سے زیادہ تیز نظر نہ ہوتا۔جو کہ اندھا ہے اور اُس کے راستے میں سو گڑھے ہیں اُس پر افسوس اگر اُس کا کوئی رہبر نہیں۔ایک اور قوم کی ایسی ہی کمزور رائے ہے جو جہالت سے اُس کے سر میں سما گئی ہے۔وہ یہ کہ خدا نے دنیا میں کسی اور ملک کو ان کے ملک سے زیادہ اچھا نہیں بنایا