براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 681 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 681

۔میں ہمیشہ اُس کے کوچہ میں اڑتا پھرتا اگر میں پر و بال رکھتا۔لالہ و ریحان میرے کس کام کے ہیں؟ میں تو اُس چہرہ و سر سے تعلق رکھتا ہوں۔اُس کی خوبی دامن دل کو کھینچتی ہے اور ایک طاقتور ہستی مجھے کشاں کشاں لے جا رہی ہے۔میں نے دیکھا کہ وہ آنکھوں کا نور ہے اس کی محبت کا اثر چمکدار سورج کی مانند ہے۔وہ چہرہ روشن ہو گیا جس نے اس سے روگردانی نہ کی۔وہ کامیاب ہو گیا جس نے اس کا دروازہ پکڑ لیا۔جس نے اس کے بغیر دین کے سمندر میں قدم رکھا۔اس نے پہلے ہی قدم میں گھاٹ کھو دیا۔وہ اُ می ہے مگر علم وحکمت میں بے نظیر ہے اُس سے زیادہ اُس کی صداقت پر اور کیا دلیل ہو گی؟۔خدا نے اُسے وہ شرا ِب معرفت عطا فرمائی کہ اُس کی شعاعوں سے ہر ستارہ ماند پڑ گیا۔اُس کے باعث پورے طور پر عیاں ہو گیا انسان کا وہ جوہر جو مخفی تھا۔اُس کے پا ک نفس پر ہر کمال ختم ہو گیا اس لئے اُس پر پیغمبروں کا خاتمہ ہو گیا۔وہ ہر ملک اور ہر زمانہ کے لئے آفتاب ہے اور ہر اسود واحمر کا رہبر ہے۔وہ علم اور معرفت کا مجمع البحرین ہے۔بادل اور آفتاب دونوں ناموں کا جامع ہے۔میں نے بہت تلاش کیا مگر کہیں نہیں دیکھا اس کے دین کی مانندمصفّٰی چشمہ۔سالکوں کے لئے اُس کے سوا کوئی امام نہیں راہِ حق کے متلاشیوں کے لئے اس کے سوا کوئی رہبر نہیں۔اُس کا مقام وہ ہے جہاں جبریلؑ کے اُس مقام کے انوار کے باعث پرو بال جلتے ہیں۔اُس خدا نے اسے وہ شریعت اور دین عطا کیاجو کبھی بھی تبدیل نہ ہو گا۔پہلے وہ عرب کے ملک پر چمکا تا کہ اُس ملک کی خرابیوں کا انسداد کرے صفحہ ۲۰۔بعد ازاں وہ نور اور پاک شریعت تمام عالم پر آسمان کی طرح محیط ہو گئی۔مخلوق کو خدا کی طرف سے مقصدِ زندگی بخشا اور ایک اژدھے کے منہ سے اُسے رہائی دلائی۔ایک طرف شاہانِ وقت اُس سے حیران تھے دوسری طرف ہر عقل مند ششدر تھا۔نہ اس کے علم تک کوئی پہنچا نہ اُس کی طاقت تک۔اُس نے ہر متکبر کے تکبر کو توڑ کر رکھ دیا