براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 677
ترجمہ فارسی کلام صفحہ ۱۴۔یہ نظام عالم اس بات کی ہر دم گواہی دے رہا ہے کہ اس جہان کا کوئی بانی اور صانع ضرور ہے۔نہ کوئی اس کا شریک ہے نہ ساجھی، نہ اس کے کام میں کوئی دخیل ہے نہ کوئی اس کا ہمراز ہے۔وہ اس جہان کا بنانے والا ہے مگر وہ خود جہان سے بالاتر اور ممتاز ہے۔وہ اکیلا لاشریک زندہ اور قادر ہے ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا۔یگانہ اور باخبر ہے۔جہان کا کارساز پاک اور قدیم ہے۔پیدا کرنے والا، روزی پہنچانے والا، مہربان اور رحیم ہے۔وہ رہنما اور معلم دین ہے۔وہ ہادی اور یقینی علوم کا الہام کرنے والا ہے۔وہ تمام صفات کاملہ سے متصف او ر آل واولاد کے جھمیلوں سے بے نیاز ہے۔وہ ہر زمانہ میں ایک ہی حال پر قائم ہے۔فنا اور زوال کا اس کے حضور گزر نہیں۔کوئی شے اس کے حکم سے باہر نہیں ہے۔نہ وہ کسی سے نکلا ہے اور نہ کسی کی مانند ہے۔نہیں کہہ سکتے کہ وہ چیزوں کو چھوتا ہے۔نہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہم سے دور ہے۔اُس کی ذات اگرچہ سب سے بالاتر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس کے نیچے کوئی اور چیز بھی ہے۔جو کچھ فہم عقل اور قیاس میں آسکتا ہے اُس کی ذات ہر اُس خیال سے بالاتر ہے۔اُس کی ذات بے مثل اور یکتا ہے اور حدود وقیود سے آزاد ہے صفحہ ۱۵۔کوئی وجود اس کا ہمسر نہیں۔نہ کوئی اس کی صفات میں اس کے برابر ہے۔سب کچھ اس کی قدرت سے پیدا ہوا ہے۔ان کی کثرت اس کی وحدت پر گواہ ہے۔اگر مخلوق میں سے کوئی اس کا شریک ہوتا تو یہ تمام دنیا زیر وزبر ہوجاتی۔خاک اور خاکی مخلوق کی جو صفات ہیں اُس کی بے مثل ذات ان سے پاک ہے۔ہر وجود کے لئے اس نے کچھ پابندیاں لگا دی ہیں مگر خود ہر قید اور پابندی سے آزاد ہے