براہین احمدیہ حصہ چہارم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 678 of 849

براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 678

۔آدمی غلام ہے اور اُس کا نفس مقید ہے۔صدہا خواہشوں اور لالچوں میں پھنسا ہوا ہے۔اسی طرح سورج اور چاند بھی حکم کے پابند ہیں وہ اپنے اپنے راستوں کے مکلف اور اسیر ہیں۔چاند کو اس امر کی قدرت حاصل نہیں کہ وہ دن کو آزادانہ چمک سکے۔اسی طرح سورج کو بھی یہ قوت نہیں کہ وہ رات کے تخت پر قدم رکھ سکے۔پانی بھی پابندہے کیونکہ وہ ہمیشہ برودت کا پابند ہے اپنی مرضی کا مالک نہیں۔تیز آگ بھی اس کی تابعدار ہے اور ایسی جلن میں اسی کی ڈالی ہوئی ہے۔اگر تو اُس آگ سے التجا کرے تب بھی اے شخص! اس کی گرمی کم نہ ہو گی۔درختوں کے تنے زمین میں پیوست ہیں۔ان کے پاؤں میں مضبوط زنجیریں ڈال دی ہیں۔یہ سب چیزیں اُسی ہستی سے وابستہ ہیں اور اُس کے وجود پر دلائل اور نشان ہیں۔اے جہانوں اور مخلوقات کے آقا! دنیا اور مخلوق تیری قدرت سے حیران ہے۔تیری شان وشوکت کس قدر باعظمت ہے تیری صنعت اور تیرا کام کتنا عجیب ہے۔شروع ہی سے حمد کا تیرے ساتھ تعلق ہے اور اس معاملہ میں نہ کوئی تیرا شریک ہے نہ ہمسر۔تو اکیلا بے مثل اور ازلی ہے ہر ساجھی اور شریک سے پاک۔دونوں جہان میں تیرا کوئی نظیر نہیں۔دونوں عالم میں تو اکیلا ہی خدا ہے۔ہر شے پر تیری طاقت غالب ہے اور ہر چیز تیرے مقابل پر ہیچ ہے۔تیرا خوف ہر ڈر اور خطرہ سے محفوظ کر دیتا ہے۔جو تیری معرفت زیادہ رکھتا ہے وہی تجھ سے زیادہ ڈرتا ہے صفحہ ۱۶۔مخلوق کسی کی پناہ اور سایہ ڈھونڈتی ہے مگر سب کی پناہ صرف تیری ذات ہے۔تیری یاد ہر مشکل کی کلید ہے۔تیرے بغیر ہر خیال دل کا دکھ ہے۔جو تیرے حضور میں عاجزی سے روتا ہے وہ اپنی گم گشتہ قسمت کو دوبارہ پاتا ہے۔تیری مہربانیاں طالبوں کو نہیں چھوڑتیں۔کوئی تیرے معاملے میں نقصان نہیں اٹھاتا۔جو شحض صرف تجھ سے تعلق رکھتا ہے وہ دوسرے کی طرف پیٹھ پھیر لیتا ہے