براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 664
براہین احمدیہ حصہ چہارم ۶۶۲ روحانی خزائن جلد ۱ وہ جسمانی یا روحانی حاجتوں کے وقت مدد فرماتا ہے یعنی جسمانی صعوبتوں کے وقت بارش وغیرہ سے اور روحانی صعوبتوں کے وقت اپنا شفا بخش کلام نازل کرنے سے عاجز بندوں کی دستگیری کرتا ہے۔ سو یہ مقدمہ بدیہی الصداقت ہے کیونکہ کسی عاقل کو اس سے انکار نہیں کہ یہ دونوں سلسلے روحانی اور جسمانی اسی وجہ سے اب تک صحیح و سالم چلے آتے ہیں کہ خدا وند کریم نیست و نابود ہونے سے ان کو محفوظ رکھتا ہے مثلاً اگر خدائے تعالیٰ جسمانی سلسلہ کی حفاظت نہ کرتا اور سخت سخت قحطوں کے وقت میں باران رحمت سے دستگیری نہ فرما تا تو بالآخر نتیجہ اس کا یہی ہوتا کہ لوگ پہلی فصلوں کی جس قدر پیدا وار تھی سب کی سب کھا لیتے اور پھر آگے اناج کے نہ ہونے سے تڑپ تڑپ کر مر جاتے اور نوع انسان کا قرآن شریف وہ کتاب ہے جس نے اپنی عظمتوں اپنی حکمتوں اپنی صداقتوں اپنی بلاغتوں اپنے لطائف و نکات اپنے انوار روحانی کا آپ دعویٰ کیا ہے اور اپنا بے نظیر ہونا آپ ظاہر فرما دیا ہے۔ یہ بات ہرگز نہیں کہ صرف مسلمانوں نے فقط اپنے خیال میں اس کی خوبیوں کو قرار دے دیا ہے بلکہ وہ تو خود اپنی خوبیوں اور اپنے کمالات کو بیان فرماتا ہے اور اباء هم فهم غافلون۔ اور اسی طرح ہم نے یوسف پر احسان کیا تا ہم اس سے بدی اور مخش کو روک دیں اور تا تو ان لوگوں کو ڈرا وے جن کے باپ دادوں کو کسی نے نہیں ڈرایا سو وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اس جگہ یوسف کے لفظ سے یہی عاجز مراد ہے کہ جو باعتبار کسی روحانی مناسبت کے اطلاق پایا - والله اعلم بالصواب بعد اس کے فرمایا۔قل عندى شهادة من الله فهل انتم مؤمنون ان معى ربي سيهدين۔ رب اغفر وارحم من السماء ربنا عاج۔ رب السجن احب الى مما يدعونني | اليه۔ رب نـجـنـى مـن غـمـى ايلى ايلى لما سبقتنی - کرمہائے تو ما را کرد گستاخ ۔ ۵۵۳ ۵۵۴