براہین احمدیہ حصہ چہارم — Page 662
روحانی خزائن جلد 1 ۶۶۰ براہین احمدیہ حصہ چہارم قانون قدیم کے کہ جو جسمانی اور روحانی طور پر ابتدا سے چلا آتا ہے قرآن شریف کو خلق اللہ کی اصلاح کے لئے نازل کیا اور ضرور تھا کہ ایسے وقت میں قرآن شریف نازل ہوتا کیونکہ اس ۵۵۱ پر ظلمت زمانہ کی حالت موجودہ کو ایسی عظیم الشان کتاب اور ایسے عظیم الشان رسول کی حاجت تھی اور ضرورت حصہ اس بات کی متقاضی ہو رہی تھی کہ اس تاریکی کے وقت میں جو تمام دنیا پر چھا گئی تھی اور اپنے انتہائی درجہ تک پہنچ چکی تھی آفتاب صداقت کا طلوع کرے کیونکہ بحجر طلوع اُس آفتاب کے ہرگز ممکن نہ تھا کہ ایسی اندھیری رات خود بخود روز روشن کی صورت پکڑ جائے اور اسی کی طرف ایک دوسرے مقام میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ ۵۵۲ الہامی کتاب یا کسی دوسری کتاب سے اسی قدر لطائف و نکات و خواص ایجاد کر کے دکھلاؤ اور اگر تمام قرآن شریف کے مقابلہ پر نہیں تو صرف بطور نمونہ سورۃ فاتحہ کے مقابلہ پر جس کے کمالات کسی قدر اسی حاشیہ میں بیان کئے گئے ہیں کسی اور کتاب سے نکال کر پیش کرو ۔ ۵۵۴ حاشیه نمبر ا ا بقیه حاشیه در حاشیه نمبر ۴ کا غم پیش آ گیا تھا جس کے تدارک کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی ۔ اور بجز حرج و نقصان اٹھانے کے اور کوئی سبیل نمودار نہ تھی اسی روز شام کے قریب یہ عاجز اپنے معمول کے مطابق جنگل میں سیر کو گیا اور اس وقت ہمراہ ایک آریہ ملا وامل نامی تھا جب واپس آیا تو گاؤں کے دروازہ کے نزدیک یہ الہام ہوا ننجیک من الغم ۔ پھر دوبارہ الہام ہوا ننجیک من الغم الم تعلم ان الله على كل شيء قدير ۔ یعنی ہم تجھے اس غم سے نجات دیں گے ضرور نجات دیں گے کیا تو نہیں جانتا کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے ۔ چنانچہ اسی قدم پر جہاں الہام ہوا تھا۔ اُس آریہ کو اس الہام سے اطلاع دی گئی تھی اور پھر خدا نے وہ تینوں طور کاغم دور کر دیا۔ فالحمد لله علىی ذالک اور ایک اتفاقات عجیبہ سے یہ بات ہے کہ جس وقت شہاب الدین موحد نے مولوی صاحبان محمد وحین کی رائے بیان کی اسی رات انگریزی میں ایک الہام ہوا کہ جو شہاب الدین کو سنایا گیا۔ اور وہ یہ ہے ۔ دوہ آل مین ھنڈ بی اینگری بٹ گوڈ از و دیو ہی شیل